سینکڑوں مبینہ جعلی فائلوں کی منسوخی صرف کاغذی کارروائی تک محدود رہنے کا دعویٰ، سیکٹر 5-D کے پلاٹ R-7 اور R-8 کی فائلیں بھی تاحال منسوخ نہ ہونے پر سوالات اٹھ گئے

کراچی (رپورٹ آے آر ملک) ادارہ ترقیات کراچی نے نارتھ کراچی ٹاؤن شپ کے رہائشی پلاٹ نمبر L-150 اور L-149، سیکٹر 11C/1، رقبہ 80، 80 مربع گز کے حوالے سے ٹرانسفر آرڈرز، موٹیشن آرڈرز اور لیز ڈیڈ منسوخ کرنے کا حکم جاری کر دیا ہے۔ کے ڈی اے کے ڈائریکٹر لینڈ مینجمنٹ، نارتھ کراچی کی جانب سے جاری کردہ سرکاری خط کے مطابق یہ کارروائی ملکیتی ریکارڈ میں مبینہ جعلسازی، حقائق چھپانے اور مبینہ جعلی دستاویزات کی بنیاد پر حاصل کیے گئے ریکارڈ سے متعلق شکایت پر عمل میں لائی گئی۔ذرائع کے مطابق دونوں پلاٹوں کی فائلوں کی ریکارڈ روم کی پیون بک میں انٹری جاوید مائیکل کے نام سے ہوئی تھی، تاہم دونوں فائلیں تاحال ریکارڈ سے غائب بتائی جاتی ہیں۔ ڈائریکٹر جنرل کے ڈی اے کی ہدایات پر معاملے کا جائزہ لینے کے بعد مجاز اتھارٹی کی منظوری سے مذکورہ پلاٹوں کے ٹرانسفر، موٹیشن اور لیز سے متعلق دستاویزات منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ سرکاری خط میں ہدایات پر عمل درآمد نہ کرنے کی صورت میں مزید قانونی اور انتظامی کارروائی کا عندیہ بھی دیا گیا ہے۔
خط کے مطابق کے ڈی اے کے ریکوری ڈپارٹمنٹ کو مبینہ جعلی دستاویزات کی بنیاد پر جاری کیے گئے سابقہ ادا شدہ چالان منسوخ یا کالعدم قرار دینے کے لیے بھی مطلع کیا گیا ہے۔جبکہ سیکٹر 5-D کی ST-33 پلاٹ نمبر R-7 اور R-8 کی دونوں مبینہ جعلی فائلیں تاحال منسوخ نہ کیے جانے کا معاملہ بھی سوالات کو جنم دے رہا ہے۔ ان پلاٹوں کے حوالے سے مبینہ بے ضابطگیوں اور ریکارڈ میں ردوبدل کے الزامات سامنے آ چکے ہیں۔ ایسے میں یہ سوال اہمیت اختیار کر گیا ہے کہ جب کے ڈی اے کی جانب سے دیگر پلاٹوں کے ٹرانسفر، موٹیشن اور لیز منسوخ کرنے کے احکامات جاری کیے جا سکتے ہیں تو ST-33 کے پلاٹ R-7 اور R-8 کی فائلوں کے معاملے میں اب تک مؤثر کارروائی کیوں نہیں ہوئی۔سینکڑوں فائلوں کی منسوخی صرف کاغذوں تک محدود؟ یاد رہے کہ اس سے قبل بھی جعلسازی کے ذریعے تیار کی گئی سینکڑوں مبینہ جعلی فائلوں کی منسوخی کے معاملات سامنے آ چکے ہیں، تاہم الزامات ہیں کہ ان فائلوں کی منسوخی صرف کاغذی کارروائی تک محدود رہی، جبکہ ریکارڈ روم اور آئی ٹی سسٹم میں ان کی منسوخی یا فریز کیے جانے کے حوالے سے بھی سوالات موجود ہیں۔ یہ بھی سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ مبینہ جعلسازی میں ملوث افسران کے خلاف مؤثر قانونی کارروائی کیوں نہیں کی جاتی۔اب دیکھنا یہ ہے کہ کے ڈی اے حکام پلاٹ نمبر L-150 اور L-149 کی فائلوں کو صرف کاغذی کارروائی کے ذریعے منسوخ کرتے ہیں یا ریکارڈ روم اور آئی ٹی سسٹم میں بھی ان کی منسوخی یقینی بنائی جاتی ہے۔ اسی طرح نارتھ کراچی، سیکٹر 5-D، ST-33 کے پلاٹ R-7 اور R-8 کی فائلوں کے حوالے سے بھی عملی اقدامات کیے جاتے ہیں یا نہیں، جبکہ مبینہ بے ضابطگیوں کی مکمل تحقیقات اور ذمہ دار افسران کے خلاف قانونی کارروائی کا معاملہ بھی توجہ طلب ہے۔
