تھرپارکر: مسائل کا صحرا یا انتظامی ناکامی کی تصویر؟

تحریر: لائبہ سحر

تھرپارکر کا نام سنا جاتا ہے تو ذہن میں وہ تصویر آتی ہے جس میں صحرا، دور دراز گاؤں اور پانی کی کمی سامنے آتی ہے۔ لیکن اب سوال یہ ہے کہ اکیسویں صدی میں بھی تقریباً 18 لاکھ لوگوں والے علاقے میں پانی، صحت اور بنیادی سہولیات کیوں نہیں دستیاب؟ کیا یہ صرف قدرتی حالات کی وجہ سے ہے، یا پھر حکومتی نظام ناکام ہے جو اس علاقے کی ضروریات کو پورا نہیں کر رہا؟

2023 کی مردم شماری کے مطابق تھرپارکر 19,637 مربع کلومیٹر پر پھیلا ہوا ہے، اور اس کی آبادی 1.77 ملین ہے۔ زیادہ تر لوگ دیہی علاقوں میں رہتے ہیں۔ اتنے بڑے رقبے اور چھوٹی چھوٹی آبادیوں والے علاقے کو موجودہ انتظامی وسائل سے مؤثر طریقے سے چلانا کتنا ممکن ہے؟ خاص طور پر اگر اس کے مسائل کو صرف سیاسی بحث سے نہ بلکہ عوام کی حقیقی ضروریات کے لحاظ سے دیکھا جائے تو یہ سوال زیادہ اہم ہو جاتا ہے۔

پانی کا مسئلہ تھرپارکر میں نئی بات نہیں۔ سندھ حکومت کا محکمہ آبپاشی بھی یہ تسلیم کرتا ہے کہ یہ علاقہ پانی کی کمی کا شکار ہے۔ بہت سے گاؤں بارش، کنوؤں یا مقامی ذخائر پر انحصار کرتے ہیں۔ اگر حکومت اس بات کو جانتی ہے تو پھر سوال یہ ہے کہ کئی برسوں کی منصوبہ بندی کے باوجود بستیوں تک صاف اور مستقل پانی کی فراہمی کیوں نہیں ہو سکی؟

مسئلہ صرف پانی تک محدود نہیں۔ دور دراز علاقوں میں صحت، تعلیم، سڑکوں، روزگار اور دیگر سرکاری سہولیات تک رسائی بھی انتظامی صلاحیت کا امتحان ہے۔ جب کسی شخص کو پانی کے لیے کئی کلومیٹر کا سفر کرنا پڑے، اور شکایات کو جواب دینے میں بہت وقت لگے، تو یہ سوال فطری ہوتا ہے: حکومت عوام کے قریب ہے، یا
عوام کو حکومت تک پہنچنے کے لیے لڑنا پڑ رہا ہے؟

یہاں نئی انتظامی اکائی کی بحث اہم ہو جاتی ہے۔ اس کا مقصد صرف نئی سرحدیں بنانا نہیں ہونا چاہیے، بلکہ انتظامی اختیارات، بجٹ، منصوبہ بندی، نگرانی اور جوابدہی کو عوام کے قریب لانا ہونا چاہیے۔ اگر فیصلے مقامی سطح پر ہوں، افسران براہ راست علاقے کے مسائل کے جواب دہ ہوں، اور ترقیاتی ترجیحات مقامی ضروریات کے مطابق طے کی جائیں تو کیا پانی، صحت اور بنیادی ڈھانچے کے مسائل زیادہ تیزی سے حل نہیں ہو سکتے؟

سندھ کی اپنی آبی پالیسی بھی پانی کے انتظام میں اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی، جوابدہی، عوامی شمولیت اور شفافیت پر زور دیتی ہے۔ اس کے باوجود تھرپارکر جیسے وسیع اور مخصوص جغرافیائی حالات رکھنے والے علاقے کے لیے مؤثر مقامی انتظامی نظام کی بحث سنجیدگی سے کیوں نہیں ہو رہی؟

نیا انتظامی یونٹ ہر مسئلے کا حل نہیں ہوگا۔ اگر پرانے نظام کی کمزوریاں نئے نظام میں بھی موجود رہیں تو محض نام بدلنے سے عوام کی زندگی نہیں بدلے گی۔ اصل ضرورت یہ ہے کہ بجٹ کے استعمال کا حساب ہو، منصوبوں کی پیش رفت عوام کے سامنے رکھی جائے، شکایات کا فوری ازالہ ہو اور افسران سے نتائج کے بارے میں سوال کیا جا سکے۔

صوبائی حکومت اصلاحات اور ترقیاتی منصوبوں کی بات کرتی رہی ہے، لیکن اصل پیمانہ یہ ہے کہ عام شہری کی زندگی میں کتنی بہتری آئی ہے۔ اگر ایک خاندان کو آج بھی پانی کے لیے کئی کلومیٹر جانا پڑتا ہے، کسی مریض کے لیے طبی سہولت دور ہے یا کسی گاؤں کی آواز انتظامی مرکز تک پہنچنے میں طویل وقت لیتی ہے تو ترقی کے دعووں کو زمینی حقائق کی کسوٹی پر پرکھنا ضروری ہے۔

تھرپارکر قدرتی وسائل اور منفرد ثقافتی شناخت رکھنے والا علاقہ ہے، مگر اس کے لوگوں کو بنیادی حقوق کے لیے انتظار نہیں کرنا چاہیے۔ حکومت سے سوال ہونا چاہیے کہ گزشتہ برسوں میں خرچ ہونے والی رقم نے عام لوگوں کی زندگی میں کیا تبدیلی پیدا کی؟ کون سے منصوبے مکمل ہوئے، کتنے فعال ہیں اور ان سے کتنے لوگوں کو حقیقی فائدہ پہنچا؟

شاید اب یہ بحث نہیں ہونی چاہیے کہ تھرپارکر میں مسائل موجود ہیں یا نہیں، بلکہ سوال یہ ہونا چاہیے کہ موجودہ انتظامی نظام انہیں حل کرنے میں مؤثر کیوں نہیں ہو رہا؟ اگر وسیع جغرافیہ، منتشر آبادی اور مسلسل بنیادی مسائل موجودہ نظام کی صلاحیت سے بڑھ چکے ہیں تو ایک مضبوط، بااختیار اور جوابدہ مقامی انتظامی نظام کی ضرورت پر سنجیدہ غور کیوں نہیں کیا جاتا؟

آخر میں سوال یہی ہے کہ تھرپارکر کے عوام کو کب تک بنیادی سہولیات کے لیے فاصلے، فائلوں اور وعدوں کے درمیان سفر کرنا پڑے گا؟

اسے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

*

*
*