بیورو کریسی کا ایک اور کارنامہ، حکومت کی چھالیہ پالیسی کی دھجیاں اڑا دیں

کراچی (9 فروری 2026): بیورو کریسی نے ایک اور کارنامہ انجام دیتے ہوئے حکومت پاکستان کی چھالیہ پالیسی کی دھجیاں اڑا دیں۔

عدالت میں چھالییہ کی درآمد سے متعلق ایک کیس کی سماعت میں درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ سابق ڈی جی پلانٹ پروٹیکشن ڈیپارٹمنٹ نے چھالیہ کی درآمد سے متعلق نوٹیفکیشن چھپا دیا، جس کی وجہ سے تاجروں کے تقریباً 200 کنسائنمنٹ بندرگاہ پر کھڑے ہیں۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ حکومت کو تاجروں کی پریشانی کا احساس ہے، اور اس کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

بیرسٹر محسن شاہوانی نے عدالت کو بتایا کہ اس معاملے پر کمیٹی تشکیل دی گئی تھی، جس نے سفارشات پیش کر دی ہیں۔ جس میں سفارش کی گئی ہے کہ ایک بار تاجروں کو اضافی ٹیرف سے استثنیٰ دے دیا جائے۔ تاہم وزیراعظم کی مصروفیات کے باعث سفارشات کی منظوری التوا کا شکار ہے۔

وکیل سلور انٹرپرائزز نے کہا کہ چھالیہ کی درآمد پر ٹیرف میں اضافے کی کوئی اطلاع نہیں دی گئی۔ درآمدات پر ٹیرف دوسرے ملک میں سامان اترنے سے پہلے تک عائد کیا جا سکتا ہے۔

درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ٹیرف کی غیر یقینی صورتحال سے تجارت متاثر ہو گی۔ کسٹم حکام نے یقینی اطلاع دی بلکہ کہا کہ سنا ہے ٹیرف میں اضافہ ہو گیا ہے۔

سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایا کہ کاٹن ڈیپارٹمنٹ سے بھی عبوری انتظام ہو گیا ہے۔ درخواست گزار کو اتنی مشکلات نہیں، جتنی عدالت میں بتائی جا رہی ہیں۔

بعد ازاں عدالت نے حکومت سے تحریری کمنٹس طلب کرتے ہوئے سماعت کو دو ہفتے کے لیے ملتوی کر دیا۔

اسے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

*

*
*