
سیکٹر فائیوڈی کی ST-56 پلاٹ L3،L4 میں تقیسم کرکے اپنے بہنوئی محکمہ تعلیم کے معمولی ملازم طارق کو منتقل کردی
بدعنوانیوں کی لاتعداد خبروں کے باوجودوزارت بلدیات، ڈی جی KDA۔ محکمہ اینٹی کرپشن کی خاموشی معنی خیز ہے
کراچی ( رپورٹ اے آر ملک) کے ڈی اے کلرک جاوید مائیکل کی ایک اور بدعنوانی کا شاہکار،سیکٹر فائیوڈی نارتھ کراچی ٹاؤن شپ ST-56 پلاٹ L3،L4 میں تقیسم کرکے محکمہ تعلیم کے معمولی ملازم بہنوئی سید طارق علی کے نام2016 میں منتقل کرکے خفیہ رکھی ، جواب سامنے آگئی ہے۔ یہ جاوید مائیکل کا طریقہ واردات ہے کہ ہیراپھیری کرکے خاموشی سے معاملہ دبائے رکھتا ہے اور برسوںبعد حالات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے معاملہ ظاہر ہوجاتا ہے۔ اس کی بدعنوانیوں سے بھری اس قدر خبریں شائع ہوئی ہیں کہ کتاب مرتب ہوسکے مگر ڈی جی، کے ڈی اے اور دیگر افسران اور محکمہ اینٹی کرپشن، وزارت بلدیات اس پر کوئی ایکشن نہیں لیتے۔ ذرائع کے مطابق بلایا جاتا ہے، چائے پی جاتی ہے اورنذرانہ لے کر بات آئی گئی کردی جاتی ہے۔ ظاہر ہے منہ کھاتا ہے تو آنکھ شرماتی ہے، اختیارات بکتے ہیں تو بدی پھلتی پھولتی ہے، بدعنوانی کے خلاف عالمی دن کے موقع پرزبان کچھ بولتی ہے، اعمال کچھ اور ہوتے ہیں۔ اس کی بہنوں اور بہنوئیوں اور بچوں کے نام پر منتقل مزید پراپرٹیز کی تفصیلات جلد شائع کی جائیں گی، جبکہ سیکٹر فائیو۔ ایف نارتھ کراچی میں محتسب اعلیٰ اور ہائیکورٹ کے حکم پر متاثرین کو پلاٹس دینے کے معاملے میں بندربانٹ میں جواپنوںکو بانٹ ، حق داروں کو ڈانٹ کی پالیسی پر عمل پیراکے ڈی اے کے اعلی ٰ عہدوں پر فائز کالی بھیڑوں کے خلاف حقائق اور مزید ثبوت جمع کیے جارہے ہیں ۔ ان کے کالے کرتوتوں کو بھی جلد بے نقاب کیا جائے گا۔ واضح رہے کہ رپورٹرز جان ہتھیلی پر رکھ کر بدعنوانیوں اور بدعنوانوں کے خلاف سینہ سپر ہوتے ہیں، ان پر دھمکیاں بے اثر رہتی ہیں۔
