
اسلام آباد:
فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے آن لائن اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے آمدنی حاصل کرنے والے انفلوئنسرز، کنٹینٹ کریئیٹرز اور ڈیجیٹل ساہوکاروں کے لیے نئے اور سخت ٹیکس قوانین نافذ کر دیے ہیں۔ نئے ضوابط کا مقصد آن لائن ذرائع سے حاصل ہونے والی آمدنی کو شفاف بنانا اور ٹیکس نیٹ کو وسعت دینا ہے۔
بینک سے براہِ راست ٹیکس کٹوتی:
نئے قوانین کے مطابق جیسے ہی کسی پاکستانی کریئیٹر کے بینک اکاؤنٹ میں آن لائن کمائی منتقل ہوگی، بینک خودکار طریقے سے ود ہولڈنگ ٹیکس وضع کر لے گا۔ ٹیکس فائلرز کے لیے کٹوتی کی شرح 5 فیصد جبکہ نان فائلرز کے لیے 10 فیصد مقرر کی گئی ہے۔
1 ہزار ویوز پر ٹیکس فارمولا (RPM ماڈل) اور تحائف:
آمدنی چھپانے کے عمل کو روکنے کے لیے ایف بی آر نے تخمینے کا نظام وضع کیا ہے جس کے تحت فی 1,000 ویوز پر کم از کم 195 روپے کی آمدن فرض کی جائے گی۔ کریئیٹرز کو ان کی اصل آمدن یا اس فارمولے میں سے جو بھی زیادہ ہوگی، اس پر ٹیکس ادا کرنا ہوگا۔ اس کے علاوہ برانڈز کی جانب سے ملنے والے مفت پی آر (PR) پیکجز، اسپانسرشپس اور تحائف کو بھی آمدن شمار کر کے ٹیکس کے زمرے میں شامل کیا جائے گا۔
اخراجات کی حد اور ٹیکس کی ادائیگی کا جدول:
نئے قوانین کے تحت کریئیٹرز اپنی کل آمدن کا صرف 30 فیصد بطور کاروباری اخراجات (مثلاً کیمرہ، انٹرنیٹ بلز، یا سفری اخراجات) ظاہر کر سکیں گے، جبکہ بقایا 70 فیصد آمدن پر مکمل ٹیکس عائد ہوگا۔ مزید برآں، سالانہ ٹیکس کے بجائے اب تمام کریئیٹرز کو ہر تین ماہ (سہ ماہی) کی بنیاد پر ایڈوانس ٹیکس جمع کرانا ہوگا۔
ٹیکس کی زد میں آنے والے افراد:
پاکستان میں مقیم تمام کریئیٹرز کے لیے کوئی کم سے کم سبسکرائبر یا ویوز کی حد نہیں رکھی گئی ہے اور پاکستانی ناظرین سے کمانے والے تمام افراد ٹیکس کے پابند ہوں گے۔ تاہم بیرونِ ملک مقیم پاکستانی کریئیٹرز صرف اس صورت میں ٹیکس دیں گے اگر وہ پاکستانی ناظرین کو ٹارگٹ کرتے ہیں اور سالانہ 50 ہزار سے زائد صارفین تک ان کی رسائی ہو۔
