اگر محسن نقوی نے کہا ہے صوبے بنیں گے یا نوکری جائے گی تو میرے خیال میں نوکری ہی جائے گی، سعید غنی

کراچی (اسٹاف رپورٹر): وزیر محنت و افرادی قوت و سماجی تحفظ سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ اگر محسن نقوی یہ کہتے ہیں کہ صوبے بنیں گے یا ان کی نوکری جائے گی تو میرے خیال میں ان کی نوکری ہی جائے گی۔ پی ٹی آئی اور جماعت اسلامی نئے صوبے کے قیام کے خلاف ہیں، اسی لیے اسمبلی میں ووٹنگ کے موقع پر ان کے ارکان ایوان سے باہر چلے گئے۔سندھ اسمبلی کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سعید غنی نے کہا کہ سندھ کے عوام کو دیکھنا چاہیے کہ کون سی جماعتیں کھل کر ان کے جذبات کی ترجمانی کررہی ہیں اور کون سی جماعتیں سڑکوں پر ان کے ساتھ نعرے لگاتی ہیں لیکن اسمبلی میں فیصلہ کن وقت آنے پر بھاگ جاتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی بھی کسی نہ کسی طرح سندھ کی تقسیم چاہتی ہے، عوام کو دھوکا دینے کے لیے سڑکوں پر کچھ اور اعلان کرتی ہے جبکہ اسمبلی میں اس کے ارکان موجود نہیں ہوتے۔ جماعت اسلامی کے رکن نے بھی ووٹنگ کے وقت اسمبلی سے باہر جاکر یہی طریقہ اختیار کیا۔سعید غنی نے کہا کہ یہ فیصلہ اب سندھ کے عوام پر چھوڑتا ہوں کہ وہ دیکھیں کہ کون ان کے ساتھ کھڑا ہے اور کون صرف سڑکوں پر دعوے کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ صوبے کی حمایت کے حوالے سے نہ انہیں کوئی فون آیا ہے اور نہ ہی کسی پارٹی رکن نے انہیں ایسی اطلاع دی ہےوزیراعلیٰ پنجاب کے حالیہ بیان پر سعید غنی نے کہا کہ ان کے بیان کا مطلب اور ان کے دل و دماغ میں کیا تھا، اس کا انہیں علم نہیں، تاہم اس بیان کا خطرناک پہلو یہ ہے کہ پاکستان کے اندرونی حالات میں بیرونی ممالک کا کردار موجود ہے، چاہے وہ افغانستان ہو یا بھارت۔انہوں نے کہا کہ کے پی، بلوچستان، کراچی اور پنجاب میں دہشت گردی کے واقعات ہوئے ہیں، جبکہ دہشت گرد تنظیموں کے پیچھے بیرون ملک عناصر کے ملوث ہونے کی بات سامنے آتی رہی ہے۔ ایسے میں یہ کہنا کہ بیرون ممالک سے کوئی خطرہ نہیں، سمجھ سے بالاتر اور انتہائی غیر ذمہ دارانہ بات ہے۔سعید غنی نے کہا کہ دہشت گرد تنظیمیں ملک کے مختلف صوبوں میں موجود ہیں اور ان کے پیچھے بیرونی عناصر موجود ہیں، اس لیے ایسے حساس معاملے پر انتہائی محتاط انداز میں بات کرنی چاہیے۔وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے سندھ کے دورے سے متعلق سوال پر سعید غنی نے کہا کہ وہ گزشتہ دو، تین روز سے سندھ میں موجود ہیں اور سڑک کے ذریعے دورہ کررہے ہیں۔ اگر حکومت کی کوئی پالیسی انہیں روکنے کی ہوتی تو انہیں سندھ میں داخل ہی نہ ہونے دیا جاتا۔انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے کراچی میں شارع قائدین پر جلسے کا اعلان کیا تھا، تاہم شارع قائدین پر جلسے کی اجازت آج تک کسی کو نہیں دی گئی۔ حکومت بھی کوشش کرتی ہے کہ سیاسی اجتماعات گراؤنڈ یا کھلی جگہوں پر ہوں تاکہ شہریوں کو کم سے کم مشکلات کا سامنا کرنا پڑے۔سعید غنی نے کہا کہ ممکن ہے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا شارع قائدین کی جانب آنا چاہتے ہوں، جس کے باعث بعض راستے بند کیے گئے ہوں۔محسن نقوی کے بیان سے متعلق سوال پر وزیر محنت سندھ نے دوٹوک انداز میں کہا کہ اگر وہ کہتے ہیں کہ صوبے بنیں گے یا ان کی نوکری جائے گی تو میرے خیال میں ان کی نوکری ہی جائے گی۔


اسے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

*

*
*