
اعلیٰ ثانوی تعلیمی بورڈ کراچی میں ایجنٹ مافیا نے شارع نور جہاں پولیس کی مبینہ ملی بھگت سے اودھم مچا رکھا ہے، جہاں دفاتر میں گھس کر ملازمین کو زدوکوب کرنا اور طلبہ سے فارمز کی مد میں سرعام رشوت بٹورنا ان کا معمول بن چکا ہے؛ سندھ ٹیچرز فورم کے عہدیداران پروفیسر عزیز احمد مدنی اور دیگر نے مشترکہ بیان میں اس غنڈہ گردی کی شدید مذمت کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ یہ عناصر نہ صرف مالی استحصال بلکہ لڑکیوں کو ہراساں کرنے میں بھی ملوث ہیں، جبکہ پولیس یومیہ رشوت کے عوض ان کے خلاف کارروائی سے گریزاں ہے۔ ترجمان نے مطالبہ کیا ہے کہ کل سے شروع ہونے والے امتحانات کے پیشِ نظر بورڈ آفس اور امتحانی مراکز پر فول پروف سیکیورٹی یقینی بنائی جائے اور ان مافیا عناصر کے داخلے پر فوری پابندی عائد کی جائے تاکہ اساتذہ اور طلبہ پرامن ماحول میں تعلیمی عمل جاری رکھ سکیں؛ آج ہونے والی ہنگامہ آرائی کے باعث بورڈ میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا ہے، جس پر تعلیمی حلقوں نے حکومتِ سندھ سے فوری نوٹس لینے کی اپیل کی ہے۔ ایجنٹس اور بورڈ ملازمین کے درمیان حالیہ ہاتھا پائی نے انتظامی کنٹرول پر بڑے سوالات کھڑے کر دیے ہیں، جس کے بعد اب تمام نظریں انتظامیہ کے اگلے قدم پر لگی ہوئی ہیں۔
