دواسازی کی صنعت، جو زبردست برآمدی امکانات رکھتی ہے، ریاستی سرپرستی کے بغیر مسلسل ترقی کر رہی ہے

حکومت اگرچہ پائیدار معاشی ترقی کے لیے برآمدات میں اضافے کی بھرپور کوششیں کر رہی ہے، تاہم پاکستان کے دوا ساز اداروں نے تجویز دی ہے کہ حکومت انہیں مرکزی ریسرچ فنڈ (Central Research Fund – CRF) میں حصہ دینے کے بجائے اپنی 1 فیصد منافع کی رقم اپنی لیبارٹریوں اور تحقیقی منصوبوں میں براہ راست استعمال کرنے کی اجازت دے تاکہ وہ برآمدات کے لیے نئی مصنوعات تیار کر سکیں۔
پاکستان فارماسیوٹیکل مینوفیکچرر ایسوسی ایشن (PPMA) کے چیئرمین توقیر الحق کہتے ہیں کہ ’مرکزی تحقیقاتی فنڈ (CRF) کو شعبہ جاتی تحقیق و ترقی کے لیے مؤثر طریقے سے استعمال نہیں کیا جا رہا، بلکہ اسے انتظامی مقاصد کے لیے خرچ کیا جا رہا ہے۔‘
پاکستان کے روایتی برآمدی شعبے جیسے ٹیکسٹائل، قالین سازی، چمڑے کی مصنوعات اور کھیلوں کا سامان، طویل عرصے سے سبسڈی، ریبیٹ اور پالیسی مراعات سے فائدہ اٹھاتے رہے ہیں۔ اس کے برعکس دواسازی کی صنعت، جو زبردست برآمدی امکانات رکھتی ہے، ریاستی سرپرستی کے بغیر مسلسل ترقی کر رہی ہے۔
گزشتہ چند برسوں میں پاکستان کی دوا ساز برآمدات میں مستقل اضافہ ہوا ہے، خاص طور پر افریقہ، مشرق وسطیٰ، وسطی ایشیا، جنوبی امریکہ، جنوب مشرقی ایشیا، دولت مشترکہ ریاستوں (CIS) اور دیگر منڈیوں میں۔
صنعتی ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر حکومت اس شعبے کو برآمدی مراعات اور اختراعی منصوبوں کے لیے ہدفی فنڈنگ فراہم کرے، تو اس کی کارکردگی مزید بہتر ہو سکتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ دواسازی کی صنعت ایک ایسی اقتصادی موقع فراہم کرتی ہے جو پالیسی کی رکاوٹوں کی وجہ سے ابھی تک مکمل طور پر استعمال نہیں ہو سکی۔
اس معاملے کی جڑ وہ قانون ہے جس کے تحت ملک کی تمام دوا ساز کمپنیاں اپنے خالص منافع کا 1 فیصد CRF میں جمع کرانے کی پابند ہیں۔ اس فنڈ کا مقصد تحقیق اور ترقی کو فروغ دینا تھا، مگر صنعتی ماہرین کے مطابق اب اس فنڈ کا بیشتر حصہ انتظامی اور انفراسٹرکچر اخراجات جیسے کہ لیبارٹری اپ گریڈیشن، فارماکوویجیلنس سسٹم، زہریلی اشیاء کے کنٹرول سینٹرز، اینٹی مائیکروبیل سرویلنس اور ڈیجیٹل ریکارڈ کیپنگ پر خرچ کیا جا رہا ہے، جو براہِ راست نئی مصنوعات کی تیاری یا اختراع کی حوصلہ افزائی نہیں کرتے۔
اگرچہ اس انفراسٹرکچر کی اہمیت اپنی جگہ مسلم ہے، لیکن یہ وہ عناصر نہیں ہیں جو عالمی مسابقت، برآمدی ترقی یا سرمایہ کاری کے لیے ضروری ٹیکنالوجی ٹرانسفر کو فروغ دے سکیں۔ اسی لیے دواسازی کے شعبے نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت انہیں اس 1 فیصد منافع کو اپنے تحقیقی منصوبوں پر خود خرچ کرنے کی اجازت دے تاکہ یہ صنعت ایک نئی راہ پر گامزن ہو سکے۔
اس پالیسی میں ترمیم سے دواسازی کی صنعت کو کیسے فائدہ ہوگا؟
صنعتی ماہرین کے مطابق اگر دوا ساز کمپنیاں اپنے 1 فیصد منافع کو اپنی ریسرچ اور ڈیولپمنٹ پر خرچ کرنے لگیں، تو اس سے درج ذیل فوائد حاصل ہوں گے:
مخصوص مصنوعات کی اختراع میں سرمایہ کاری کی جائے گی جس سے بین الاقوامی منڈی کے لیے فوری طور پر قابل فروخت مصنوعات سامنے آئیں گی۔
جدید بائیوٹیکنالوجی اور پیچیدہ دوا سازی میں ٹیکنالوجی ٹرانسفر ممکن ہوگا، جو بڑے پیمانے پر درآمدی متبادل پیدا کرے گا اور عالمی منڈی میں پاکستان کو برتری دلائے گا۔
سرکاری و نجی تحقیقی شراکت داری کو فروغ ملے گا، جس میں جامعات اور تحقیقی ادارے شامل ہوں گے۔
پاکستان میں کلینیکل ٹرائلز اور بائیو ایکویویلنس اسٹڈیز کرنے کے لیے تحقیقی ادارے اور عالمی ادارہ صحت (WHO) سے منظور شدہ لیبارٹریاں قائم ہوں گی، جو اس وقت بھارت، انڈونیشیا، ملیشیا، اردن وغیرہ میں کروائی جا رہی ہیں۔
بین الاقوامی ضوابط کے مطابق دواسازی کے شعبے کی تیاری ممکن ہوگی، جیسے WHO، PICS، ANVISA، US-FDA، UK-MHRA، EMA اور ہیلتھ کینیڈا کی سرٹیفیکیشنز، جو عالمی منڈی میں میں داخلے کے لیے لازمی ہیں اور جنہیں بھارت، چین، ترکی اور بنگلہ دیش جیسی مسابقتی مارکیٹیں پہلے ہی حاصل کر رہی ہیں.
گزشتہ 12 ماہ کے دوران دواسازی کے شعبے نے ملکی صحت کے تقاضے پورے کرتے ہوئے اپنی برآمدات میں بھی اضافہ کیا ہے، اور صنعت کا دعویٰ ہے کہ اگر حکومت کی جانب سے بھرپور تعاون حاصل ہو تو یہ کارکردگی کئی گنا بہتر ہو سکتی ہے۔