آئندہ سماعت پر حاضری معافی کی استدعا منظور نہیں کی جائے گی، چیف جسٹس اشتیاق ابراہیم کا عندیہ
پشاور ہائیکورٹ نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی چیئرمین عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی عبوری ضمانت میں توسیع کرتے ہوئے انہیں 23 دسمبر تک کسی بھی مقدمے میں گرفتار نہ کرنے کا حکم دے دیا، طبعیت ناساز ہونے کے باعث بشری بی بی عدالت میں پیش نہ ہوسکی ۔
چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ جسٹس اشتیاق ابراہیم اور جسٹس وقار احمد نے بشریٰ بی بی کی مقدمات کی تفصیل اور حفاظتی ضمانت کے لیے دائر درخواست پر سماعت کی۔
دوران سماعت بشری بی بی کے وکیل عالم خان ادینزئی نے بشریٰ بی بی کی ایک روزہ حاضری سے استثنیٰ کی درخواست دائر کی جس میں کہا گیا کہ بشریٰ بی بی بیمار ہیں اس لیے آج عدالت پیش نہیں ہو سکیں۔
عدالت نے سابق خاتون اول کی حاضری معافی کی درخواست منظور کرتے ہوئے ریمارکس میں کہا کہ آئندہ سماعت پر حاضری معافی کی استدعا منظور نہیں کی جائے گی۔
بعدازاں عدالت نے بشریٰ بی بی کی عبوری ضمانت میں توسیع کردی اور 23 دسمبر تک کسی بھی مقدمے میں گرفتار نہ کرنے کا حکم دیتے ہوئے درخواست پر مزید سماعت 23 دسمبر تک ملتوی کردی۔
اس سے قبل سابق وزیراعظم عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی طبعیت ایک بار پھر ناساز ہوگئی تھی، ذرائع کا کہنا تھا کہ گزشتہ رات سے بشریٰ بی بی کی طبیعت ناساز ہے، ان کے دانت میں تکلیف ہے۔
طبعیت ناساز ہونے کے باعث سابق خاتون اول بشری بی بی عدالت میں پیش نہ ہوسکی۔