رواں برس کچھ مشہور ٹک ٹاکرز کی نازیبا ویڈیوز قطار در قطار لیک ہوئیں

مشہور زمانہ ٹک ٹاک ایپ پر ہر طرح کی ویڈیوز شیئر ہوتی ہیں، ان میں تعلیم سے لیکر مذہبی ویڈیو اور صحت سے لیکر معلوماتی ویڈیوز بھی شامل ہیں لیکن ٹک ٹاک پر سب سے زیادہ پذیرائی ان ویڈیوز کو ملتی ہیں جن میں فلٹر استعمال کرکے خوبرو لڑکیاں کسی گانے پر رقص کر رہی ہوتی ہیں یا پھر لپ سنکنگ کر رہی ہوتی ہیں۔
ان ٹک ٹاک اسٹاز کے مداح بھی لاکھوں میں ہوتے ہیں اور ان ویڈیوز کو بھی لاکھوں ویوز ملتے ہیں، ٹک ٹاک کو کافی عرصے سے اس حوالے سے تنقید کا سامنا کرنا پڑرہا ہے جس میں یہ کہا جاتا ہے کہ ٹک ٹاک نازیبا ویڈیوز کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔
پاکستان میں اس معاملے پر ٹک ٹاک پر پابندی بھی لگائی گئی لیکن پھر اس پابندی کو ہٹا دیا گیا۔
سال 2024 ٹک ٹاک ایک بار پھر زیر بحث رہا جب کچھ مشہور ٹک ٹاکرز کی نازیبا ویڈیوز قطار در قطار لیک ہوئیں۔
ان مشہور ٹک ٹاکرز میں مناہل ملک، امشا رحمان، متھیرا، مریم فیصل، کنول آفتاب شامل ہیں جن کی ویڈیوز مبینہ طور پر لیک کی گئیں۔
ان ویڈیوز کی خبر سامنے آتے ہی یہ ’ٹاک آف دی ٹاؤن‘ بن گئیں اور سوشل میڈیا پر ان ٹک ٹاکرز کو زیر بحث لایا جانے لگا، بعض سوشل میڈیا صارفین نے الزام لگایا کہ ٹک ٹاکرز نے اپنی یہ ویڈیوز خود لیک کی ہیں تاکہ انہیں پبلسٹی مل سکے۔
مذکورہ ٹک ٹاکرز میں سے صرف مناہل ملک نے ایف آئی اے کو قانونی کارروائی کے لیے درخواست دی، باقی ٹک ٹاکرز نے معاملے پر خاموشی اختیار کرلی، امشا رحمان نے اپنے تمام اکاونٹس ڈیلیٹ کردیے اور وہ سوشل میڈیا پر اپنی موجودگی ختم کرچکی ہیں۔
ابھی تک کوئی ایسا شخص بھی گرفتار یا حراست میں نہیں آیا ہے جس نے کسی قسم کی کوئی ویڈیو لیک کی ہو، جس سے صارفین کی جانب سے یہ تاثر مضبوط ہوتا جارہا ہے کہ یہ ویڈیوز جان بوجھ کر لیک کی گئی ہیں۔
المیہ یہ رہا کہ صارفین کی ایک بڑی تعداد اِن لیک ویڈیوز کے لنکس مانگنے میں مصروف نظر آئی، سنجیدہ حلقوں کی رائے تھی کہ اگر سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے اِن ویڈیوز کو نظر انداز کیا جاتا تو ایک کے بعد ایک ویڈیو لیک نہ ہوتی۔
مزید یہ کہ مناہل ملک کا نام ان شخصیات میں بھی شامل ہوگیا جن کو 2024 میں سب سے زیادہ گوگل پر سرچ کیا گیا، اس سے سوشل میڈیا صارفین کی ترجیحات کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔
