12 ٹیکنیکل اداروں میں سے دانستہ SBCA اور ماسٹرپلان اتھارٹی کا نام نکال کر عدالت کو گمراہ کرنیکی کوشش

فہرست میں سے نکالے جانے والے دونوں اداروں کے سربراہ پروفیشنل انجینئراورپاکستان انجینئرنگ کونسل کے رجسٹرڈ انجینئرز کے بغیر نہیں ہوسکتے

دونوں اداروں میں بیشتر سربراہ نان ٹیکنیکل رہے، ایس بی سی اے میں 8 سال کے دوران9نان ٹیکنیکل افسران بطور ڈائریکٹرجنرل تعینات کئے جاچکے

سپریم کورٹ کاحکم تھا کہ کسی بھی ایسے فرد کو پروفیشنل انجینئرنگ ورک کی اجازت نہیں دی جائیگی جس کے پاس تسلیم شدہ انجینئرنگ کی تعلیم ڈگری نہ ہو

کراچی (رپورٹ/شاہد شیخ) حکومت سندھ نے سپریم کورٹ آف پاکستان کے احکامات کے برعکس سندھ کے بارہ ٹیکنیکل اداروں میں سے دانستہ طورپر سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی اورسندھ ماسٹر پلان اتھارٹی کے نام فہرست سے نکال کر معزز عدالت کو گمراہ کرنے کی کوشش کی جس کا متعلقہ اداروں نے سختی سے نوٹس لیتے ہوئے اعلیٰ سطح پر تحقیقات کا آغاز کردیاہے سپریم کورٹ کی جانب سے آئینی درخواست نمبر78ـK/2015 کے تحت 3 اکتوبر 2018ء کو حکم دیاگیا تھا کہ حکومت کی جانب سے کسی بھی ایسے فرد کو پروفیشنل انجینئرنگ ورک کی اجازت نہیں دی جائے گی جس کے پاس تسلیم شدہ انجینئرنگ کی تعلیم ڈگری نہ ہوجسے اس نے کسی تسلیم شدہ انجینئرنگ انسٹی ٹیوشن سے حاصل نہ کیا ہواوراس کا نام پاکستان انجیئرنگ کونسل ACT،1976 کے تحت رجسٹرڈ انجینئر یا پروفیشنل انجینئرکے طورپر رجسٹرڈ نہ ہومذکورہ حکم نامے پر عمل درآمد کرنے کیلئے لوکل گورنمنٹ ہائوسنگ اینڈ ٹائون پلاننگ ڈپارٹمنٹ حکومت سندھ کیجانب سے 22 اگست 2024ء کو سندھ کے دی ٹیکنیکل اداروں کے سربراہان کوایک ارجنٹ لیٹر کے ذریعے سپریمکورٹ کے احکامات پرفوری عمل درآمد کرنے کی ہدایت کی گئی اوراس کیلئے صرف پانچ دنوں کی مہلت دی گئی حکومت سندھ نے سندھ کے10 ٹیکنیکل محکموں کے سربراہان کو معزز عدالت کے احکامات پر فوری عمل درآمد کی ہدایت کی جن میں منیجنگ ڈائریکٹرسندھ سولڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ کراچی ،منیجنگ ڈائریکٹر/سی ای او کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن ،منیجنگ ڈائریکٹر/سی ای او واسا /HWSCحیدرآباد، ڈائریکٹرجنرل حیدرآباد ڈیولپمنٹ اتھارٹی، ڈائریکٹرجنرل کراچی ڈیولپمنٹ اتھارٹی، میونسپل کمشنر کے ایم سی، ڈائریکٹرجنرل ملیر ڈیولپمنٹ اتھارٹی، ڈائریکٹرجنرل لیاری ڈیولپمنٹ اتھارٹی، ڈائریکٹر جنرل سیہون ڈیولپمنٹ اتھارٹی اور سیکریٹری سندھ لوکل گورنمنٹ بورڈ شامل ہیں جبکہ صوبہ سندھ کے سب سے زیادہ ٹیکنیکل اداروں سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی اورسندھ ماسٹر پلان اتھارٹی کے نام مذکورہ فہرست میں سے دانستہ طورپر نکال دیئے حالانکہ ان دونوں اداروں میں سب سے زیادہ ٹیکنیکل افسران اورپروفیشنل /رجسٹرڈ انجینئرز کام کرتے ہیں اوران کے سربراہ سپریم کورٹ کے احکامات کے تحت نان ٹیکنیکل تعینات نہیں کئے جاسکتے مذکورہ فہرست میں سے نکالے جانے والے دونوں اداروں کے سربراہ پروفیشنل انجینئراورپاکستان انجینئرنگ کونسل کے رجسٹرڈ انجینئرز کے بغیر نہیں ہوسکتے اس کے باوجود مذکورہ دونوں اداروں کے سربراہ اکثروبیشتر نان ٹیکنیکل اورغیرانجینئرافسران ہوتے ہیں خاص طورپر سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی میں گزشتہ 8 سال کے دوران9 نان ٹیکنیکل افسران بطور ڈائریکٹرجنرل تعینات کئے جاچکے ہیں جبکہ حکومت سندھ کے گزٹ نوٹیفکیشن ایکسٹیشن جنوری 2017.26 میں ڈائریکٹرجنرل سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی تعینات سے متعلق مکمل طریقہ کار اور پروفیشنل تعلیم کا ذکر کیا گیاہے جس کے تحت گریڈ 20 کے ایڈیشنل ڈائریکٹرجنرل جن کی سروس 17 گریڈ میں کم ازکم 17سال ہوا نہیں ڈائریکٹرجنرل تعینات کیاجاسکتاہے اوراگرایسا افسر دستیاب نہ ہوتوحکومت سندھ کے کسی گریڈ 20 کے انجینئر،آرکیٹیکٹ یا ٹائون پلانزکوڈائریکٹرجنرل تعینات کیاجاسکتاہے لیکن دونوں صورتوں میں ان افسران کا پاکستان انجینئرنگ کونسل یا پاکستان کونسل فار آرکیٹکیٹس اینڈ ٹائون پلانزز میں رجسٹرڈ ہونا لازمی ہے لیکن ڈی جی ایس بی سی اے کی تعیناتی میں نہ توسپریم کورٹ کے احکامات کو ملحوظ خاطر رکھا گیا اورنہ ہی تعیناتی کیلئے اپنے ہی گزٹ نوٹیفکیشن پرعمل درآمد۔کیاگیاہے جس کی وجہ سے اعلیٰ سطح کی تحقیقات کا آغاز کردیاگیاہے۔

اسے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

*

*
*