کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن KWSC میں قیادت کے انتخاب پر مفادات کے ٹکراؤ کے الزامات شدت اختیار کر گئے

کراچی (خصوصی رپورٹ) کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن (KWSC) میں چیف ایگزیکٹو اور چیف آپریٹنگ آفیسر کے تقرر کا عمل تنازعے کا شکار ہو گیا ہے۔ بورڈ ممبران کے ذاتی تعلقات کی بنیاد پر اثراندازی کے الزامات نے ادارے کی غیر جانبداری پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

ذرائع کے مطابق ڈاکٹر سروش لودھی، عبد الکبیر قاضی اور تنویر پیرزادہ جیسے بااثر ممبران ان امیدواروں سے قریبی تعلق رکھتے ہیں، جنہیں اعلیٰ عہدوں کے لیے زیر غور لایا جا رہا ہے۔ اس سے شفافیت اور میرٹ پر مبنی انتخابی عمل کی ساکھ متاثر ہو رہی ہے۔

سینئر افسران اور سول سوسائٹی نے مطالبہ کیا ہے کہ ایسے حساس تقرریوں میں عدالتی مثالوں کی طرح مفادات کے ٹکراؤ سے اجتناب برتا جائے، اور ایسا نظام بنایا جائے جس میں کوئی متعلقہ فرد فیصلہ سازی کا حصہ نہ ہو۔

کراچی جیسے بڑے شہر میں پانی اور سیوریج کا نظام چلانا ایک بہت بڑا چیلنج ہے۔ ادارے کی قیادت میں اگر میرٹ سے ہٹ کر تقرریاں کی جائیں تو شہریوں کا اعتماد مجروح ہو سکتا ہے، اور اربوں روپے کے ترقیاتی منصوبے متاثر ہو سکتے ہیں۔

ماہرین تجویز دیتے ہیں کہ KWSC میں آزاد کمیٹی تشکیل دی جائے، جس کے پاس امیدواروں کی جانچ کا مکمل اختیار ہو۔ واضح معیار، انتخابی شیڈول، عوامی مشاورت اور مفادات کے ٹکراؤ کی پالیسی اس عمل کا لازمی حصہ بننی چاہیے۔

شہریوں نے حکومت سندھ اور KWSC بورڈ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری اصلاحات کریں، تاکہ ادارے کی قیادت میرٹ اور شفافیت پر مبنی ہو۔ ادارہ جس کے فیصلے لاکھوں لوگوں کی زندگیوں کو متاثر کرتے ہیں، اس میں کسی قسم کی جانبداری ناقابلِ قبول ہے۔

اسے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

*

*
*