
رمضان المبارک کے آغاز کے ساتھ ہی ہر سال کراچی میں ایک نمایاں تبدیلی دیکھنے میں آتی ہے۔ مختلف رپورٹس اور سرویز کے مطابق اندازہ لگایا جاتا ہے کہ رمضان کے مہینے میں ملک بھر سے تقریباً تین لاکھ سے چار لاکھ پیشہ ور بھکاری کراچی کا رخ کرتے ہیں۔ اسی طرح بعض تحقیقات میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ایک بھکاری روزانہ تقریباً 10 گھنٹے تک کراچی میں کسی ایک جگہ بھیک مانگتا ہے اور روزانہ تین سے چار ہزار روپے تک کما لیتا ہے۔ مزید کچھ سرویز یہ دعویٰ بھی کرتے ہیں کہ رمضان کے دوران کراچی میں اسٹریٹ کرائم میں 60 فیصد تک اضافہ دیکھا جاتا ہے۔ اگرچہ ان اعداد و شمار کی مکمل تصدیق ایک الگ بحث ہو سکتی ہے، لیکن شہریوں کے روزمرہ تجربات اس صورتحال کی جھلک ضرور پیش کرتے ہیں۔
کراچی کو ہمیشہ سے مہمان نواز شہر کہا جاتا ہے۔ یہاں رمضان میں جگہ جگہ افطار دسترخوان اور فلاحی کیمپ لگائے جاتے ہیں۔ لوگ کھلے دل سے روزہ داروں کو کھانا کھلاتے ہیں، شربت پلاتے ہیں اور ضرورت مند لوگوں کو خیرات دیتے ہیں۔ یہی خوبصورت روایت کراچی کی پہچان ہے۔ مگر افسوس کے ساتھ یہ بھی حقیقت ہے کہ اس مہمان نوازی کا غلط فائدہ اٹھانے والے عناصر بھی موجود ہیں، جن میں سب سے نمایاں پیشہ ور بھکاری ہیں۔
رمضان کے دوران شہر کے تقریباً ہر سگنل، بازار، مسجد اور گلی میں بھکاریوں کی بڑی تعداد نظر آتی ہے۔ یہ افراد مختلف طریقے اختیار کرتے ہیں، کوئی معذوری کا بہانہ بناتا ہے، کوئی بچے کو بھوکا دکھاتا ہے۔ بعض اوقات ان کا رویہ اتنا جارحانہ ہو جاتا ہے کہ اگر کوئی شخص پیسے نہ دے تو اسے احساسِ جرم دلایا جاتا ہے یا اسے سخت جملے سننے پڑتے ہیں۔ یہ سب ایک سوچا سمجھا نفسیاتی طریقہ کار ہوتا ہے جس کا مقصد صرف پیسے حاصل کرنا ہے۔ کبھی یہ بھکاری پیسے نہ ملنے پر ایسا مظلوم چہرہ بنا لیتے ہیں کہ لوگ فوراً ترس کھا کر انہیں پیسے دے دیتے ہیں۔
شہر میں آنے کے بعد یہ بھکاری مختلف مقامات پر قیام کرتے ہیں۔ کچھ خالی پلاٹوں پر جھونپڑیاں بنا لیتے ہیں، کچھ فلائی اوورز کے نیچے بسیرا کر لیتے ہیں۔ پورے دن بھیک مانگنے کے بعد یہ افراد افطار دسترخوانوں سے کھانا حاصل کرتے ہیں۔ کھانا کھانے تک تو کسی کو اعتراض نہیں ہو سکتا، کیونکہ اسلام میں بھوکوں کو کھانا کھلانا بڑی نیکی ہے۔ مسئلہ وہاں پیدا ہوتا ہے جہاں یہ سرگرمی ایک منظم پیشے کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔
اس صورتحال کا ایک اور اہم پہلو وہ سفید پوش طبقہ ہے جو واقعی ضرورت مند ہوتا ہے مگر عزتِ نفس کی وجہ سے ہاتھ نہیں پھیلاتا۔ ایسے خاندان اکثر خاموشی سے مشکلات برداشت کرتے ہیں۔ جب خیرات اور زکوٰۃ کا بڑا حصہ پیشہ ور بھکاریوں تک پہنچ جاتا ہے تو اصل مستحق افراد محروم رہ جاتے ہیں۔ یہ ایک سنجیدہ سماجی مسئلہ ہے جس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔
بعض رپورٹس یہ بھی بتاتی ہیں کہ بھکاریوں کی بڑی تعداد کے شہر میں داخل ہونے سے اسٹریٹ کرائم میں اضافہ ہوتا ہے۔ اگرچہ ہر بھکاری کو مجرم قرار دینا بھی درست نہیں، لیکن یہ حقیقت ہے کہ جرائم پیشہ عناصر اس ہجوم میں آسانی سے چھپ سکتے ہیں۔ شہریوں کے لیے یہ صورتحال مزید پریشانی اور عدم تحفظ کا باعث بنتی ہے۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس مسئلے کا حل کیا ہے؟ کیا دسترخوانوں کو بند کر دینا چاہیے؟ یقیناً نہیں۔ دسترخوان ایک خوبصورت روایت ہیں اور بہت سے لوگوں کے لیے سہارا بھی۔ لیکن صرف کھانا کھلانا مسئلے کا مستقل حل نہیں ہے۔
زیادہ مؤثر حل یہ ہو سکتا ہے کہ فلاحی ادارے اور مخیر حضرات ایک منظم حکمتِ عملی اختیار کریں۔ مثال کے طور پر:
سفید پوش اور حقیقی ضرورت مند خاندانوں کی شناخت کے لیے تحقیقاتی ٹیمیں بنائی جائیں۔
مالی امداد کے بجائے راشن، ادویات، اور بنیادی ضروریات ان کے گھر فراہم کی جائیں۔
ہنر سکھانے اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے پر توجہ دی جائے۔
چھوٹے کاروبار یا روزگار اسکیموں کے ذریعے لوگوں کو خود کفیل بنایا جائے۔
مسلسل مفت امداد بعض اوقات کام چوری کی عادت پیدا کر دیتی ہے۔ اگر کسی شخص کو مستقل روزگار یا ہنر مل جائے تو وہ زیادہ عزت اور خود اعتمادی کے ساتھ زندگی گزار سکتا ہے۔ یہی ایک پائیدار اور باعزت حل ہے۔
کراچی ایک بڑا شہر ہے، صرف آبادی کے لحاظ سے نہیں بلکہ دل کے لحاظ سے بھی۔ یہ شہر ہر آنے والے کو جگہ دیتا ہے، مگر اس کے اپنے مسائل بھی کم نہیں۔ ٹوٹی سڑکیں، گیس، پانی، بجلی اور اسٹریٹ کرائم جیسے مسائل شہریوں کی روزمرہ زندگی کا حصہ بن چکے ہیں۔ اس کے باوجود کراچی کے لوگ صبر اور برداشت کی مثال قائم کرتے ہیں۔
آخر میں دعا یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمارے شہر پر اپنا خاص کرم فرمائے، شہریوں کو آسانیاں عطا کرے، اور ہمیں ایسے فیصلے کرنے کی توفیق دے جو معاشرے کے حقیقی مستحق افراد کے لیے فائدہ مند ہوں۔ رمضان رحمت، برکت، اور اصلاح کا مہینہ ہے، اگر ہم اس موقع پر اپنی سماجی ذمہ داریوں کو بہتر طریقے سے سمجھ لیں تو یقیناً بہت سی مثبت تبدیلیاں ممکن ہیں۔
لیکن آخر میں میں یہ ضرور کہوں گا کہ اس بار خود سے وعدہ کریں کہ آپ سڑک پر کھڑے بھکاریوں کو بھیک کے نام پر ایک روپیہ بھی نہیں دیں گے، بلکہ اپنا صدقہ اور زکوٰۃ خود ضرورت مند لوگوں کو ڈھونڈ کر ان تک پہنچائیں گے۔ سوچیں، آپ کا دیا ہوا ایک روپیہ بھی اگر غلط ہاتھوں میں جائے تو یہ ان کے غلط کاموں کو شہ دینے کے برابر ہے۔ اس رمضان اس غلط عمل کا حصہ نہ بنیں۔
علی قاسم – کراچی
