
کراچی میں ڈمپر حادثات کے خلاف مجوزہ احتجاجی ریلی سے چند گھنٹے قبل مختلف علاقوں میں پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارروائی میں دو درجن سے زائد کارکنان گرفتار کر کے نامعلوم مقام پر منتقل کر دیے گئے۔
سیاسی جماعت کی ریلی سے قبل کراچی کے مختلف علاقوں میں کریک ڈاؤن کیا گیا۔ پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ملیر، سعود آباد، لانڈھی، کورنگی، شاہ فیصل اور لائنز ایریا میں متعدد مقامات پر چھاپے مارے، جن کے دوران درجنوں کارکنوں کو گرفتار کیا گیا۔ گرفتار افراد کو نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے۔
دفعہ 144 نافذ، ریلی کی اجازت نہیں دی گئی
کمشنر کراچی کی جانب سے ضلع وسطی میں ایک روز کے لیے دفعہ 144 نافذ کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کیا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق یوپی موڑ پر مجوزہ ریلی کے مقام پر کشیدگی کا خدشہ ہے، اسی لیے ضلعی انتظامیہ کو ریلی کی اجازت نہ دینے کی درخواست کی گئی تھی، جس کے بعد دفعہ 144 نافذ کی گئی۔
آفاق احمد کی ہنگامی پریس کانفرنس
مذکورہ سیاسی جماعت کے سربراہ آفاق احمد نے صبح 11 بجے اپنی رہائش گاہ پر ہنگامی پریس کانفرنس طلب کی ہے۔ توقع ہے کہ اس دوران آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا۔
آفاق احمد نے اپنے ویڈیو پیغام میں کہا ہے کہ انہوں نے شہر کی تمام قومیتوں سے پرامن احتجاج کی اپیل کی تھی، مگر ریاستی طاقت کے ذریعے کارکنان اور ہمدردوں کو گرفتار کر کے احتجاج کو روکنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا:
”پیپلز پارٹی کی بدعنوانیوں کی وجہ سے شہر تباہی کے دہانے پر ہے، اور اس کا اثر تمام مستقل رہائشیوں پر ہو رہا ہے، چاہے ان کی زبان کچھ بھی ہو۔ میں نے سفید پرچم کے ساتھ پرامن احتجاج کی اپیل کی تھی۔“
انہوں نے دعویٰ کیا کہ شہر بھر میں چھاپوں کے دوران ”متحدہ چائنہ کے لوگ“ بھی پولیس کے ساتھ شریک تھے اور نشاندہی کر رہے تھے۔
آفاق احمد نے الزام لگایا کہ یہ تمام کارروائیاں پیپلز پارٹی اور متحدہ قومی موومنٹ (پاکستان) کے مبینہ گٹھ جوڑ کا حصہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دونوں جماعتیں عوام کی توجہ اصل مسائل سے ہٹانے کے لیے ”نوراکشتی“ کا کھیل کھیل رہی ہیں۔
آفاق احمد کا کہنا تھا کہ آج کراچی ثابت کرے گا یہ غلاموں کا شہر نہیں غیرت مندوں کا ہے، بہت کچھ کرسکتے ہیں لیکن ملکی حالات کی وجہ سے صرف اتحاد اور طاقت کا مظاہرہ ہوگا، احتجاج پرامن ہوگا۔
