کراچی سے ٹینکر مافیا کا خاتمہ: میئر کراچی کا بڑا ایکشن یا محض ایک سیاسی بیان؟

کراچی میں ٹینکر مافیا کے خلاف میئر کراچی مرتضیٰ وہاب کے حالیہ اعلان نے سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ جہاں ایک طرف سات ہائیڈرنٹس کو مرحلہ وار ختم کرنے کے فیصلے کو "انقلابی” قرار دیا جا رہا ہے، وہیں عوامی تبصروں اور سوالات کی بھرمار نے انتظامیہ کے لیے کئی چیلنجز بھی کھڑے کر دیے ہیں۔ ہمارے فیس بک پیج پر 10 لاکھ سے زائد لوگوں تک پہنچنے والی اس خبر پر ہونے والے 3 ہزار سے زائد کمنٹس یہ بتاتے ہیں کہ شہری اس فیصلے کو شک کی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں یا پھر ان کے پاس ٹھوس سوالات موجود ہیں۔

سب سے بڑا سوال یہ اٹھایا جا رہا ہے کہ کیا میئر کراچی واقعی طاقتور ٹینکر مافیا کو روک پائیں گے؟ شہریوں کا کہنا ہے کہ دہائیوں سے جڑی اس مافیا کی جڑیں بہت گہری ہیں۔ دوسرا اہم سوال ان علاقوں سے متعلق ہے جہاں برسوں سے لائنوں میں پانی نہیں آیا؛ عوام پوچھتے ہیں کہ اگر ہائیڈرنٹس اور ٹینکرز بند کر دیے گئے تو ان پیاسے علاقوں تک پانی کیسے پہنچے گا؟ اگرچہ میئر نے متبادل دنوں میں لائنوں سے سپلائی اور ڈیجیٹل اصلاحات کا وعدہ کیا ہے، لیکن کراچی کے موجودہ ٹوٹے ہوئے واٹر انفراسٹرکچر میں یہ کتنا ممکن ہے؟ کیا واقعی پائپ لائنیں اتنی فعال ہیں کہ وہ ٹینکرز کا بوجھ اٹھا سکیں؟

میئر کا یہ کہنا کہ وہ "فوری طور پر ٹینکر بند نہیں کر رہے بلکہ متبادل رستہ نکالیں گے”، ایک حد تک تسلی بخش تو ہے لیکن کراچی کے زمینی حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ کسی کٹھن امتحان سے کم نہیں۔ کیا یہ فیصلہ صرف ایک سیاسی بیان ثابت ہوگا یا واقعی کراچی کی سڑکوں سے ان "خونی ٹینکرز” اور پانی کی چوری کا خاتمہ ممکن ہو سکے گا؟ یہ وہ سوالات ہیں جن کا جواب آنے والا وقت اور واٹر کارپوریشن کی کارکردگی ہی دے گی۔

اسے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

*

*
*