
شہر قائد کے سرکاری اسکولوں کو بہتر تعلیم کے بعد فرنیچر سے بھی محروم کیا جانے لگا
لاکھوں روپے کا فرنیچر سرجانی ٹاو¿ن کے ایک اسکول میں قائم “ویئر ہاﺅس” سے غائب ہونے کا انکشاف
فرنیچر کو ضلع غربی کے پرائمری سرکاری اسکولوں میں فراہم کرنا تھا، سپلائرکمپنی نے سیکریٹری ایجوکیشن کو خط لکھ دیا
کمپنی وئیرہاو¿س پہنچی تو فرنیچر غائب ہوچکا تھا، ڈی ای او یجوکیشن نے پورے واقعے سے لاعلمی کا اظہارکردیا
کراچی( نیوز ڈیسک) کراچی کے سرکاری اسکولوں کو فراہمی کے لیے تیار کیا جانے والا لاکھوں روپے کا فرنیچر اچانک وئیرہاو¿س سے کہیں غائب ہوگیا، اطلاعات کے مطابق شہر قائد کے سرکاری اسکولوں کو بہتر تعلیم کے بعد فرنیچر سے بھی محروم کیا جانے لگا، کراچی کے اسکولوں کو فراہم کیا جانے والا لاکھوں روپے کا فرنیچر اچانک غائب ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔لاکھوں روپے کا فرنیچر سرجانی ٹاو¿ن کے ایک اسکول میں قائم کیے گئے “ویئر ہاﺅس” سے غائب ہوا ہے، جو ضلع غربی district west کے پرائمری سرکاری اسکولوں کو فراہم کیا جانا تھا۔اس بات کا انکشاف سیکریٹری اسکول ایجوکیشن سندھ کو فرنیچر سپلائی کرنے والی کمپنی کی جانب سے لکھے گئے ایک خط میں کیا گیا ہے۔واضح رہے کہ کراچی کے ضلع غربی کے کئی سرکاری اسکولوں میں فرنیچر کی شدید قلت ہے اور نادرن بائی پاس کے قریب واقع ایک سرکاری اسکول میں پرائمری اسکول کے طلبہ سردی میں زمین پر بیٹھ کر تعلیم حاصل کررہے ہیں، جنھیں ایک عرصہ دراز کے بعد یہ فرنیچر سپلائی کیا جانا تھا۔ادھر سیکریٹری اسکول ایجوکیشن سندھ کو لکھے گئے خط میں بتایا گیا ہے کہ جب فرنیچر سپلائی کرنے والی ٹیم گورنمنٹ بوائز سیکنڈری اسکول سرجانی منگوپیر میں قائم ویئر ہاﺅس پہنچی تو وہاں رکھا گیا نیا فرنیچر موجود نہیں تھا۔ویئر ہاﺅس کے انچارج کے مطابق فرنیچر ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر سیکنڈری کی ہدایت پر لے جایا گیا ہے تاہم فرنیچر بنانے والی کمپنی کا دعوی ہے کہ فرنیچر کو کسی نامعلوم جگہ منتقل کردیا گیا ہے اور کمپنی نے کئی بار ڈی ای او سے رابطے کی کوشش بھی کی ہے لیکن ان سے رابطہ بے سود رہا لہذا فوری کارروائی کرتے ہوئے فرنیچر تلاش کیا جائے۔ اس سلسلے میں ڈی ای او ایجوکیشن سے بھی رابطہ کیاگیا تاہم ان کا کہنا تھا کہ مجھے ایسے کسی واقعہ کا علم نہیں”
