پاکستان دل و جان سے ایران کے ساتھ کھڑا ہے، ملک کے اندر اس معاملے کو غلط رنگ دینا ٹھیک نہیں

اسلام آباد(3 مارچ 2026): نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان دل و جان سے ایران کے ساتھ کھڑا ہے، ملک کے اندر اس معاملے کو غلط رنگ دینا ٹھیک نہیں۔

نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اسلام آباد میں میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے مشرق وسطیٰ کی حالیہ کشیدہ صورتحال، پاکستانیوں کے انخلا اور سفارتی کوششوں کے حوالے سے تفصیلات فراہم کی ہیں۔

اسحاق ڈار نے بتایا کہ ایران اور خلیجی ممالک میں صورتحال ابتر ہے اور فلائی روٹس معطل ہونے کی وجہ سے پاکستان سمیت کئی ممالک کے شہری وہاں پھنسے ہوئے ہیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ وزارت خارجہ میں ‘کرائسز مینجمنٹ یونٹ’ 24 گھنٹے فعال ہے اور ایران میں تہران، زاہدان اور مشہد کے مقامات پر تین سینٹرز قائم کیے گئے ہیں۔ اس وقت ایران میں 33 ہزار پاکستانی موجود ہیں، جن میں سے 792 شہری واپس آ چکے ہیں، جبکہ مزید 64 پاکستانی آذربائیجان پہنچے ہیں۔ نائب وزیراعظم نے پاکستانیوں کے انخلا میں معاونت پر آذربائیجان کا شکریہ بھی ادا کیا۔

نائب وزیراعظم نے انکشاف کیا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی معاہدہ موجود ہے۔ پاکستان نے ایران سے رابطہ کر کے درخواست کی کہ وہ سعودی عرب پر حملے نہ کرے۔ جواب میں ایران نے ضمانت مانگی کہ سعودی سرزمین ان کے خلاف استعمال نہیں ہوگی، جس پر پاکستان کی درخواست پر سعودی عرب نے ایران کو مطلوبہ ضمانت فراہم کر دی ہے۔

اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ پاکستان دل و جان سے ایران کے ساتھ کھڑا ہے اور اسے اپنا فرض سمجھ کر جنگ رکوانے کی کوشش کر رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان اعلانیہ اور بیک ڈور سفارت کاری کے ذریعے فریقین کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے متحرک ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کے لیے عمان اور اسلام آباد کے آپشنز موجود تھے، تاہم یہ مذاکرات جنیوا میں عمان کے سفارت خانے میں ہوئے۔

نائب وزیراعظم نے بتایا کہ فلسطین کی آزادی اور غزہ میں قیامِ امن پاکستان کے ایجنڈے پر سرِ فہرست ہے۔ 8 ممالک کا گروپ مل کر غزہ پیس پراسس کے لیے کام کر رہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ‘رجیم چینج’ (حکومت کی تبدیلی) پاکستان کا ایجنڈا نہیں ہے۔

افغانستان کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اپنی ذمہ داری پوری کی ہے، اب ہمارا صرف ایک ہی مطالبہ ہے کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہونے دی جائے۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ثابت قدم ہے۔

نائب وزیراعظم نے تصدیق کی کہ ابوظبی میں میزائل گرنے کے ایک واقعے میں ایک پاکستانی شہری شہید ہوا ہے۔

اسے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

*

*
*