طالبان رجیم اشتعال انگیزی سے باز رہے، ورنہ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔!! ترجمان دفتر خارجہ کی وارننگ

اسلام آباد : دفتر خارجہ پاکستان کے ترجمان نے کہا ہے کہ افغان سرزمین سے فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کی جانب سے پاکستان پر بار بار حملے جاری رہے، جب کہ 26 فروری کی رات طالبان رجیم کی جانب سے بلاجواز اور اشتعال انگیز کارروائیاں بھی کی گئیں۔

ترجمان کے مطابق طالبان رجیم کی ان بلاجواز کارروائیوں کے بعد پاکستان نے مؤثر اور بروقت جواب دیا۔ بہادر دفاعی افواج نے درست اہداف کو نشانہ بناتے ہوئے آپریشنز کے ذریعے دہشت گرد تنظیموں کو بھاری نقصان پہنچایا۔ انہوں نے بتایا کہ افغانستان میں دہشت گردوں کے لاجسٹک سپورٹ بیسز کو کامیابی سے ٹارگٹ کیا گیا۔

ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ پاکستان نے یہ اقدامات اپنے حقِ دفاع کے تحت شہریوں اور خطے کی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے کیے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ طالبان رجیم کی کسی بھی مزید اشتعال انگیزی کا فیصلہ کن اور بھرپور جواب دیا جائے گا۔

انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان خطے میں امن و استحکام کا خواہاں ہے اور افغان سرزمین سے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے سفارتی و سیاسی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔ تاہم بدقسمتی سے پاکستان کے خیرسگالی اقدامات اور ذمہ دارانہ طرزعمل کو غلط سمجھا گیا۔

ترجمان نے طالبان رجیم اور بھارت کی مبینہ فعال پشت پناہی سے دہشت گرد حملوں میں اضافے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان افغانستان سے جاری دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے عزم کا اعادہ کرتا ہے۔ انہوں نے افغان رجیم پر زور دیا کہ فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے خلاف ٹھوس اقدامات یقینی بنائے جائیں اور ان عناصر کو دی جانے والی ہر قسم کی معاونت فوری طور پر ختم کی جائے۔

ترجمان نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ طالبان رجیم کو واضح پیغام دیا جائے کہ وہ اپنے وعدوں سے روگردانی نہ کرے۔ انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ پاکستان بین الاقوامی قانون کے مطابق اپنے دفاع کے لیے ہر مناسب اقدام کا حق محفوظ رکھتا ہے۔

اسے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

*

*
*