
پنجاب حکومت کی جانب سے انتہائی بیش قیمت پُرتعیش لگژری طیارے کوخریدنے کا معاملہ عوامی اور سیاسی حلقوں میں موضوع بحث بنا ہوا ہے۔
یہ19 سیٹوں والا طیارہ 2019 کا تیار کردہ ہے جسے عام طور پر دنیا بھر کے سربراہان مملکت یا بڑے کاروباری ادارے استعمال کرتے ہیں، اس کی قیمت کا اندازہ تقریباً 10 ارب روپے سے زائد ہے۔
ا ے آر وائی نیوز کے پروگرام خبر کے میزبان محمد مالک نے اس حوالے سے ایک تفصیلی تجزیہ پیش کیا اور بتایا کہ پنجاب کی وزیر اطلاعات کا یہ بیان کہ اس لگژری طیارے کو پنجاب ایئر کیلیے خریدا گیا ہے جبکہ حقیقت اس سے مختلف ہے کیوں کہ یہ جہاز صرف امیر ترین لوگ استعمال کرتے ہیں کوئی ایئر لائن ایسے طیارے نہیں رکھتی۔
پنجاب حکومت کی جانب سے انتہائی بیش قیمت پُرتعیش لگژری طیارے کوخریدنے کا معاملہ عوامی اور سیاسی حلقوں میں موضوع بحث بنا ہوا ہے۔
یہ19 سیٹوں والا طیارہ 2019 کا تیار کردہ ہے جسے عام طور پر دنیا بھر کے سربراہان مملکت یا بڑے کاروباری ادارے استعمال کرتے ہیں، اس کی قیمت کا اندازہ تقریباً 10 ارب روپے سے زائد ہے۔
پنجاب کی وزیر اطلاعات کا یہ بیان کہ اس لگژری طیارے کو پنجاب ایئر کیلیے خریدا گیا ہے جبکہ حقیقت اس سے مختلف ہے کیوں کہ یہ جہاز صرف امیر ترین لوگ استعمال کرتے ہیں کوئی ایئر لائن ایسے طیارے نہیں رکھتی۔
انہوں نے بتایا کہ حکومت پنجاب نے جو جہاز خریدا ہے اس سیریز کے دنیا بھر میں 184 سے 188 جہاز ہیں یہ ایک ٹاپ کوالٹی ایگزیکٹو ایئر کرافٹ ہے جو ایئر لائنز کیلیے نہیں ہوتا۔
گلف اسٹریم جی 500 نامی طیارے کے اخراجات سے متعلق انہوں نے انکشاف کیا کہ اس پر لاگت فی گھنٹہ 28 لاکھ روپے (10ہزار ڈالر)سے زائد ہے اور اس کے پائلٹس کو ہر 4 سے 6 ماہ بعد امریکہ میں ریفریشر کورس کرنا ہوگا جبکہ انجینیئرز کی ابتدائی ٹائپ ٹریننگ بھی بیرون ملک ہوگی جس کے اخراجات علیحدہ سے ہیں۔
اس کے علاوہ ایوی ایشن ماہرین کے مطابق اس لگژری طیارے کی مرمت کے اخراجات کی لاگت تین سے 5 ملین ڈالر بتائی جارہی ہے، کیونکہ اس طرح کے لگژری جیٹس کے پرزہ جات کی مدت ایک مقررہ حد تک ہوتی ہے اگر یہ جہاز کھڑا بھی رہے تو ہر تین سے 6 ماہ کے دوران اس کے پرزوں کو تبدیل کیا جانا لازمی ہے۔
محمد مالک کا مزید کہنا تھا کہ جس کمپنی سے اس طیارے کا سودا کیا گیا وہ بنیادی طور پر ایک اسرائیلی ایرو اسپیس نامی یہودی کمپنی ہے، بعد ازاں مشرق وسطیٰ ممالک میں فروخت کیلیے امریکا میں جنرل الیکٹرک کمپنی میں اسے ضم کیا گیا۔
آج بھی اس طیارے کی مینو فیکچرنگ میں اس یہودی کمپنی کا اہم کردار ہے اور طیارے کی خریداری کیلیے ادا کی گئی رقم کا بڑا حصہ بلاواسطہ طور پر اسرائیلی کمپنی کو ادا کیا گیا ہے۔
