سندھ پولیس موبائل کے ذریعے گٹکے اور پان کی پتی کی سپلائی، پیچھے کون؟

سجاول میں پولیس موبائل کے ذریعے گٹکے اور پان کی پتی کی اسمگلنگ کے سنسنی خیز انکشاف کے بعد سی ٹی ڈی (کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ) نے معاملے کی باقاعدہ تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

ذرائع کے مطابق سجاول بائی پاس پر ایک پولیس موبائل ٹرک سے ٹکرا گئی تھی، جس کے بعد تلاشی لینے پر گاڑی سے بھاری مقدار میں گٹکا اور پان کی پتی برآمد ہوئی۔ حادثے کے بعد سجاول پولیس نے موبائل ڈرائیور سمیت دو افراد کو حراست میں لے کر سی ٹی ڈی کے حوالے کر دیا ہے۔

ابتدائی تحقیقات کے مطابق حادثے کا شکار ہونے والی موبائل ‘سیکیورٹی زون ون’ کی ہے، جو سندھ حکومت کی ایک اہم شخصیت کی سیکیورٹی کے لیے مختص کی گئی تھی۔

 پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ گاڑی میں پان کی پتی کے پیکٹس موجود تھے۔ زیرِ حراست ڈرائیور نوید یہ سامان کراچی سے لے کر جا رہا تھا اور اسے ہر پیکٹ پہنچانے کے عوض 1500 روپے ملنے تھے۔

 ڈرائیور نوید کی نشاندہی پر پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے شیر محمد نامی ایک اور شخص کو بھی گرفتار کر لیا ہے جو اس غیر قانونی کاروبار میں ملوث بتایا جاتا ہے۔

سی ٹی ڈی حکام اب اس بات کی تفتیش کر رہے ہیں کہ سرکاری گاڑی کو اس گھناؤنے کاروبار کے لیے کب سے استعمال کیا جا رہا تھا اور اس میں مزید کون سے بااثر افراد ملوث ہو سکتے ہیں۔

اسے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

*

*
*