من پسند کمپنیوں کو نوازنے کا سلسلہ عروج پر، عوامی فنڈز سے مذاق

کراچی (خصوصی رپورٹ) صوبہ سندھ میں ترقیاتی منصوبوں کے نام پر سرکاری خزانے کی بندر بانٹ کا انکشاف ہوا ہے۔ باوثوق ذرائع کے مطابق مختلف سرکاری محکمے سندھ پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (سیپرا) کے قوانین کو ہوا میں اڑاتے ہوئے ٹینڈرز مخصوص اور من پسند کمپنیوں کو دینے میں پیش پیش ہیں۔
تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ ٹینڈرز کے اشتہارات محدود سرکولیشن والے اخبارات میں شائع کیے گئے یا مقررہ وقت پر اشتہار ہی جاری نہیں کیا گیا، جس سے اوپن بڈنگ کا عمل بری طرح متاثر ہوا۔ بعض کیسز میں جعلی پے آرڈر جمع کرائے گئے، جبکہ کئی منصوبوں میں ایسے پے آرڈر شامل تھے جن پر غیر مجاز نجی کمپنیوں کے نام درج تھے جو کہ سیپرا قواعد کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ کئی ترقیاتی کاموں میں ادائیگیاں اس وقت جاری کر دی گئیں جب کام ابھی شروع بھی نہ ہوا تھا، جبکہ بعض اسکیمیں صرف کاغذوں تک محدود رہیں۔ متاثرہ علاقوں کے شہریوں نے شکایت کی ہے کہ ناقص مٹیریل کے باعث نئی بنی سڑکیں، نالے اور فٹ پاتھ چند ماہ میں ہی شکست و ریخت کا شکار ہو گئے۔
آڈیٹر جنرل آف پاکستان اور دیگر تحقیقاتی اداروں کی رپورٹس میں اربوں روپے کی بے ضابطگیوں کی نشاندہی کی گئی ہے، جن میں بار بار انہی کمپنیوں کو نوازنے کی نشاندہی کی گئی ہے۔ یہ معاملہ صرف چند اداروں تک محدود نہیں بلکہ پورے صوبے میں ترقیاتی فنڈز کے ساتھ کھلواڑ ایک معمول بن چکا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ سیپرا قوانین تمام سرکاری اداروں پر لاگو ہوتے ہیں، مگر افسوسناک امر یہ ہے کہ کئی کیسز میں سیپرا خود بھی بروقت حرکت میں نہ آ سکی، جس سے کرپشن کو مزید شہ ملی۔
ماہرین کا مطالبہ ہے کہ
• ٹینڈرز کا عمل مکمل طور پر آن لائن، شفاف اور عوامی نگرانی میں لایا جائے
• ہر ضلع میں مانیٹرنگ سیل قائم کر کے ترقیاتی منصوبوں پر نظر رکھی جائے
• قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے افسران اور کمپنیوں کے خلاف فوری اور سخت کارروائی عمل میں لائی جائے
عوامی حلقوں نے زور دے کر کہا ہے کہ ترقیاتی فنڈز عوام کی امانت ہیں، ان کے غلط استعمال سے نہ صرف منصوبے متاثر ہوں گے بلکہ حکومت سندھ پر عوامی اعتماد بھی بری طرح متزلزل ہو گا۔
