
سندھ فوڈ اتھارٹی میں مزید بھرتیاں اور لیبارٹیرز قائم کرنے کی منظوری دے دی گئی۔
صوبائی وزیر خوراک مخدوم محبوب الزمان کی زیر صدارت سندھ فوڈ اتھارٹی کا 11واں بورڈ اجلاس ہوا جس میں سندھ فوڈ اتھارٹی میں بڑے پیمانے پر اصلاحاتی اقدامات کی منظوری دی گئی۔
ملاوٹ شدہ اور مضر صحت خوراک کی تلفی کے اختیارات مزید سخت کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
صوبائی وزیر خوراک مخدوم محبوب الزمان نے کہا کہ جولائی 2025 سے جنوری 2026 تک سندھ بھر میں 47 ہزار 875 انسپیکشنز اور بہتری نوٹسز جاری کئے گئے جب کہ قوانین کی خلاف ورزی پر 370 فوڈ آؤٹ لیٹسن سیل کئے گئے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ 92 ہزار لیٹر ملاوٹ شدہ دودھ ضبط کر کے تلف کیا گیا، لائسنسنگ اور جرمانوں کی مد میں مجموعی طور پر 34 کروڑ 32 لاکھ 91 ہزار 901 روپے وصول کیے گئے۔
سندھ فوڈ اتھارٹی ایکٹ 2016 میں جامع ترامیم کی اصولی منظوری دی گئی اور فوڈ سپلائی چین میں شفافیت کے لیے ٹریک اینڈ ٹریس نظام متعارف کرانے کی منظوری دی گئی۔
سنٹرل فوڈ ٹیسٹنگ لیبارٹری کراچی اور دو موبائل لیبارٹریز کے لیے آلات کی خریداری منظوری اور سندھ فوڈ اتھارٹی میں 235 نئی آسامیوں کی منظوری بھی دی گئی۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ سندھ فوڈ اتھارٹی کا تھرڈ پارٹی آڈٹ کروایا جائے گا۔
وزیر خوراک مخدوم محبوب الزمان کا کہنا تھا کہ سندھ میں فوڈ سیفٹی کا نظام مزید مضبوط بنایا جا رہا ہے، فوڈ سپلائی چین میں شفافیت کے لیے ٹریک اینڈ ٹریس نظام متعارف کرا رہے ہیں۔
