
نانک واڑہ میں 19ویں صدی میں تعمیر کی جانے والی یہ رہائشی عمارت متعلقہ اداروں کی بے حسی اور لالچ کی بھینٹ چڑھ گئی
کلکتہ ہاؤس کی متعلقہ اداروں کی جانب سے مناسب دیکھ بھال نہ کئے جانے کی وجہ سے اس عمارت کی پچھلی جانب کا کچھ حصہ ٹوٹ گیا تھا

ہیریٹیج ڈپارٹمنٹ نے مرمت پر کوئی خاص توجہ نہ دی جس کے بعد عمارت کو مکینوں سے خالی کرالیا گیا اور یہ بلڈرمافیا کے لیے ترنوالہ ثابت ہوئی
بلڈنگ اتھارٹی سے منظور ی لئے بغیر اس کی جگہ پر نئی عمارت تعمیر کرکے کراچی کو ایک تاریخی اور قومی ورثہ قرار دی گئی عمارت سے محروم کردیا

کراچی (رپورٹ شاہد شیخ) ڈسٹرکٹ ساؤتھ کے علاقے صدر ٹاؤن میں واقع قدیم عمارتوں کو قومی ورثہ قرار دئیے جانے کے باوجود بااثر اور منظم بلڈرمافیانے تاریخی اہمیت کی حامل مشہور عمارتوں کو بھی سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی اورہیرٹیج ڈپیارٹمنٹ کے بد عنوان افراد کی ملی بھگت سے قومی ورثہ صفحہ ہستی سے مٹانا شروع کردیا ہے۔ تاریخی اہمیت کی حامل اس طرح کی متعدد عمارتوں میں نانک واڑا کے علاقے چاند بی بی روڈپرواقع مشہور کلکتہ ہاؤس نامی عمارت بھی شامل ہے۔19ویں صدی میں تعمیر کی جانے والی یہ رہائشی عمارت متعلقہ اداروں کی بے حسی اور لالچ کی بھینٹ چڑھ گئی، مزکورہ تاریخی عمارت برطانیہ دورکے آرکٹیکچر کے باقیات میں سے ایک تھی۔کلکتہ ہاؤس کی متعلقہ اداروں کی جانب سے مناسب دیکھ بھال نہ کئے جانے کی وجہ سے اس عمارت کی پچھلی جانب کا کچھ حصہ ٹوٹ گیا تھا۔ 2018میں کلکتہ ہاو¿س کے عقبے حصے کے ٹوٹ کر گرنے کی وجہ سے اس میں رہائش پذیر 18خاندانوں کو نکال دیا گیا تھا، جس کے بعدہیرٹیج فاونڈنشن آف پاکستان کی چیف ایگزیکٹیو یاسمین لاری نے کراچی پریس کلب میں ایک پریس کانفرنس منعقد کر کے کہا تھا کہ ان کی فاؤنڈیشن نے کلکتہ ہاؤس کامعائنہ کر کے معلوم کیا ہے کہ اس عمارت کی دیواریںانتہائی مضبوط ہیں اور اس عمارت میں پڑنے والے معمولی کریک کی دراڑیںکو آسانی سے ٹھیک کیا جاسکتاہے۔انہوں نے کلکتہ ہاؤس کی بحالی کیلئے اپیل بھی کی تھی تاکہ عمارت کے اسٹرکچر کو پہنچے والے نقصان اور خطرے کو کم کیا جاسکے۔عمارت کو مکنیوں کیلئے محفوظ بنایا جاسکے ،لیکن اس مقصد کے حصول کیلئے شہر قائد کے باسیوں کو آگے آنا ہوگا اور اپنے شہراوراس کے ورثے سمیت ثقافت کی زمہ داری قبول کرنا ہوگی۔یاسمین لاری نے اس وقت کلکتہ ہاؤس کی مرمت پر 25سے 30لاکھ روپے کی لاگت کا تخمنیہ لگا یا تھا اور اس سلسلے میں کراچی کے شہریوں کو فنڈز کا بندوبست کرنے کی درخواست کی گئی تھی لیکن کسی نے ان کی درخواست پر کان نہیں دھرا اور نہ ہی قومی ورثہ قرار دی گئی، عمارتوں کی دیکھ بھال کی ذمہ داری برائے نام نبھانے والے ہیر ٹیچ ڈیپارٹمنٹ نے کلکتہ ہاو¿س کی مرمت دیکھ بھال اور بحالی میں کوئی کردار ادا کیا جس کی وجہ سے مرکوزہ تاریخی عمارت کا پچھلا حصہ ٹوٹ کر گرنے اور مکینوں سے خالی کروانے کے باعث علاقے کی بلڈر مافیا کیلئے ترنوالہ ثابت ہوئی ،جسے بعدازاں ملی بھگت سے سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی سے ڈیمالیشن پر میشن حاصل کئے بغیر توڑدیا گیا اور پھر اتھارٹی سے منظور ی لئے بغیر اس کی جگہ پر نئی عمارت تعمیر کرکے کراچی کو ایک تاریخی اور قومی ورثہ قرار دی گئی عمارت سے محروم کردیا گیا جس پر کسی متعلقہ ادارے اور این اورجی کی جانب سے اعتراض نہیں کیا گیا جس نے صدر ٹاو¿ن کی بلڈر مافیا کے حوصلے اس قد ر بلند کردئیے کہ اس نے ایک کے بعد ایک قومی ورثہ قرار دی جانے والی عمارتوں کو متعلقہ اداروں کے راشی افسران کی ملی بھگت سے کسی منظوری کے توڑکر نئی عمارتیںتعمیر کرنا شروع کردیں اور یہ سلسلہ اب تک جاری ہے۔ با خبر ذرائع کا کہنا ہے سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی ڈسٹرکٹ ساوتھ کے علاقے صدر ٹاؤن میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر آفتاب احمد زرداری کی تعیناتی کے بعد یہ سلسلہ انتہائی تیز ہوگیا لیکن اثرورسوخ کے باعث آفتاب احمد زرداری کیخلاف کوئی کاروائی نہ کی گئی حال ہی میں 15قومی ورثہ قرار دی جانے والی عمارتیں سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی سے ڈیمالیشن پرمیشن حاصل کئے بغیر توڑنے کے پیچھے آفتاب احمد زرداری کا ہاتھ بتایا جاتا ہے۔ اتھارٹی قوانین کے مطابق اگر کوئی قدیم اور قومی ورثہ قرار سی گئی عمارت مخدوش ہو جائے تواسے مکمل توڑ کر نئی عمارت تعمیر کرتے وقت اس عمارت کا پرانا فساڈیعنی عمارت کا اگلہ حصہ برقرار رکھنا چایئے پرانی اور قومی ورثہ قرار دی جانے والی ایسی کئی عمارتوں کو توڑ کر نئی عمارتیں شہر کے مختلف علاقوں میں تعمیر کی جاچکی ہیںلیکن ان علاقوں کے پرانے فرنٹ والے حصے کو برقرار رکھا گیا ہے تاکہ آنے والی نسلوں کو معلوم ہوسکے کی اس جگہ پر کسی دور میں اس شکل کی قدیم عمارت موجود تھی۔ کلفٹن برج کے ساتھ زیر تعمیر کثیر المنزالہ عمارت میں بھی پرانی عمارت کا فساڈ یعنی اگلا حصہ برقرار رکھ کر تعمیر ات کی گئیں ہیں۔بندر روڈ پر بھی رام باغ کے نزدیک قدیمی عمارت کا فساڈ برقرار رکھ کرنئی عمارت تعمیر کی گئی ہے۔یاسمین لاری کی 6 سال قبل کی جانے والی پریس کانفرنس میں انہوں نے بتایا تھا انکی فاونڈیشن نے 1990 کی دہائی کے شروعات میں600 تاریخی عمارتوں کی نشاندہی کی تھی اور سندھ کلچرل ہیرٹیچ پریز روشن ایکٹ 1994 کے تحت ان 600 عمارتوں کو تحفظ فراہم کرنے کے زمرے میں لایا گیا تھا اور اس وقت تک ان کی فاؤنڈیشن نے ایسی 1200 سے زائد عمارتوں کی نشاندہی کی تھی جن میں سے50 فیصد عمارتوں کو نئے ترقیاتی منصوبوں کی وجہ سے خطرات لاحق تھے ادارہ کے آپس کے اختلافات کی وجہ سے اندرون شہر راتوں رات ایسی عمارتیں توڑ کر غائب کردی جاتی ہیں کلکتہ ہاؤس جیسی تاریخی عمارت کے ساتھ بھی کچھ ایساہی کیا گیا ہے لیکن متعلقہ ادارے ٹس سے مس نہیں ہوئے
