
تہران (28 فروری 2026): ایران پر اسرائیل اور امریکی مشترکہ حملے کے بعد مشرق وسطیٰ میں بھی امریکی اثاثوں پر حملے شروع ہو گئے ہیں، بحرین کے دارالحکومت مناما میں امریکا کے پانچویں فلیٹ سروس سینٹر پر میزائل حملہ ہوا ہے۔
الجزیرہ کے مطابق بحرین کا کہنا ہے کہ امریکی بحریہ کے 5 ویں بحری بیڑے کے ہیڈ کوارٹر کو نشانہ بنایا گیا ہے، بحرین نے تصدیق کی ہے کہ امریکی بحریہ کے پانچویں بحری بیڑے کے ہیڈ کوارٹر کو میزائل حملے سے نشانہ بنایا گیا ہے۔
بحرینی وزارت داخلہ نے شہریوں کو محفوظ مقام میں رہنے کی اپیل کی ہے اور کہا ہے کہ لوگ مرکزی شاہراہوں کا استعمال نہ کریں۔
الجزیرہ عربی کے مطابق کویت میں بھی دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، اور سائرن بج گئے، روئٹرز نے رپورٹ کیا ہے کہ ابوظبی میں بھی دھماکے کی اطلاع ہے، متحدہ عرب امارات کے دارالحکومت ابوظبی سے ایک زوردار دھماکے کی اطلاع ملی ہے۔
الجزیرہ ٹی وی کا کہنا ہے کہ قطر کے شہر دوحہ میں مزید 2 دھماکے سنے گئے ہیں، جب کہ قطری وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ ایران کی جانب سے داغے میزائلوں کو روکا جا رہا ہے، اور ملکی سرزمین تک پہنچنے سے پہلے میزائلوں کو مار گرایا گیا، ملک میں سیکیورٹی صورت حال مستحکم اور مکمل کنٹرول میں ہے۔
دوسری طرف قطری وزارت دفاع نے کہا ہے کہ قطری فضائی حدود سے گزرنے والا ایرانی میزائل دفاعی نظام نے مار گرایا ہے، نیز قطر میں برطانوی سفارت خانے نے اپنے شہریوں کے لیے ایڈوائزری جاری کی ہے اور محفوظ مقام پر رہنے کی ہدایت کی ہے۔
واضح رہے کہ ایران کی جانب سے اسرائیل پر جوابی میزائل حملے کیے جا رہے ہیں، اسرائیل کی جانب 30 سے زائد بیلسٹک میزائل داغے جا چکے ہیں، ایرانی میڈیا کا کہنا ہے کہ اسرائیل کا دارالحکومت تل ابیب دھماکوں سے گونج اٹھا، اسرائیل کے شمالی شہر حیفہ میں بھی دھماکے سنے گئے۔
ایران پر امریکا اسرائیل مشترکہ حملے کے بعد ایرانی سینئر عہدیدار نے کہا ہے کہ جو کچھ آنے والا ہے اس کے لیے تیار رہو، خطے میں تمام امریکی اور اسرائیلی اثاثے ہمارا ہدف ہیں، ہماری طرف سے جواب عوامی ہوگا اور کوئی سرخ لکیر نہیں ہے، یہ جنگ اور جارحیت وسیع اور دیرپا اثرات مرتب کرے گا۔
ادھر متحدہ عرب امارات نے اپنی فضائی حدود عارضی طور پر بند کر دی ہیں۔
ایران کی وزارت داخلہ نے اپنے شہریوں کو پرسکون رہنے کی ہدایت کی ہے، اور کہا ہے کہ جرم کرنے والا دشمن ایک بار پھر حملہ آور ہوا ہے، یہ حملہ مذاکرات کے دوران کیا گیا۔
