
سابق میئر کراچی وسیم اختر کا کہنا ہے کہ ایم کیو ایم کو کم از کم وزارتوں سے استعفیٰ دے دینا چاہیے۔
سابق میئر کراچی وسیم اختر کا کہنا ہے کہ کامران ٹیسوری پر کوئی اعتراض تھا تو قیادت کو بتانا چاہیے تھا، 26ویں اور 27ویں ترمیم میں ن لیگ کے کہنے پر ووٹ ڈالے، ہر اچھے برے وقت میں ان کے ساتھ کھڑے ہوئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی کے کہنے پر 26ویں اور 27ویں ترمیم میں ہمارا بل نہیں آیا، پارٹی قیادت وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کے بعد فیصلہ کرے گی۔
دوسری جانب ن لیگی رہنما افنان اللہ کا کہنا ہے کہ شروع میں ہی طے ہوگیا تھا گورنر سندھ ن لیگ کا ہوگا، ایم کیو ایم کی خواہش تھی کہ کامران ٹیسوری کو رکھا جائے، ایم کیو ایم کی خواہش پر معاملہ لٹکا ورنہ دو سال پہلے ہی ہوجاتا۔
افنان اللہ نے کہا کہ ایم کیو ایم کو خوش کرنا چاہتے تھے اس لیے کامران ٹیسوری اتنا عرصہ رہے، ن لیگ کو سندھ میں اپنی سرگرمیوں کے لیے سیاسی دفتر چاہیے تھا۔
انہوں نے کہا کہ گورنر وفاق کے تعاون سے کراچی میں منصوبے لگا سکتے ہیں، ایم کیو ایم ہماری اتحادی رہے گی حکومت سے علیحدگی نہیں ہوگی۔
ن لیگی رہنما نے کہا کہ وزیراعظم نے اپنی صوابدید استعمال کرکے گورنر کو تبدیل کیا ہے۔
