
کراچی (رپورٹ عرفان فاروقی) کراچی واٹر کارپوریشن میں مبینہ غفلت اور لاپروائی پر مئیر کراچی متحرک ہو گئے۔ اطلاعات کے مطابق شہر میں پانی کی فراہمی کے اہم نظام، ہائیڈرنٹ سیل میں سنگین کوتاہیوں کے انکشاف کے بعد مئیر کراچی نے خود ہائیڈرنٹ کا ہنگامی دورہ کیا۔
مئیر کراچی مرتضیٰ وہاب نے اچانک نیپا ہاڈرنٹ اور صفورہ ہاڈرنٹ کا دورہ کیا، جہاں پانی کی غیر قانونی تقسیم کا انکشاف ہوا۔ دونوں ہاڈرنٹس پر شیڈیول کے برعکس پانی کی فراہمی جاری تھی۔
ذرائع کے مطابق، مذکورہ ہاڈرنٹس پر لوڈ شیڈنگ کے دوران بھی پانی کی سپلائی جاری تھی، جو قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ مئیر کراچی نے موقع پر موجود عملے کے خلاف فوری کارروائی کرتے ہوئے انہیں معطل کردیا۔
تاہم، واٹر کارپوریشن کے ایم ڈی اور ہاڈرنٹ سیل کے انچارج کے خلاف کوئی کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی، جس پر مقتدر حلقوں کی جانب سے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ہائیڈرنٹ سیل میں بدانتظامی اور شکایات کے باوجود کارروائی نہ کیے جانے پرمقتدر حلقوں کی جانب سے شدید تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ مقتدر حلقوں کا کہنا ہے کہ انچارج ہائیڈرنٹ سیل صدیق تنیو کو فوری طور پر معطل کیا جائے، جو اس غفلت کے براہ راست ذمہ دار ہیں۔
اب یہ سوال بھی زیر بحث ہے کہ کیا ایم ڈی، پی ایس او اور چیئرمین واٹر کارپوریشن کے طور پر صدیق تنیو کے خلاف بھی محکمانہ کارروائی کی جائے گی یا نہیں۔
مقتدر حلقے اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ اگر صدیق تنیو قصوروار پائے گئے تو ان کے خلاف سخت ایکشن لیا جائے تاکہ ادارے میں احتساب کا عمل یقینی بنایا جا سکے۔
واٹر کارپوریشن میں ہاڈرنٹس سے متعلق سنگین غفلت سامنے آنے کے باوجود اعلیٰ سطح کے افسران، بشمول انچارج ہاڈرنٹ سیل صدیق تنیو اور ایم ڈی واٹر کارپوریشن، کسی قسم کی کارروائی سے محفوظ ہیں، جبکہ صفورہ ہاڈرنٹ اور نیپا ہائیڈرنٹ پر تعینات ہیلپر، فلر اور سپروائزر جیسے نچلے درجے کے ملازمین کو معطل کر دیا گیا ہے جبکہ نیپا ہائیڈرنٹ پر ایک سب انجینئر کو جو اس وقت ڈیوٹی پر بھی موجود نہیں تھے اسکے باوجود انہیں معطل کردیا گیا-
واٹر کارپوریشن کے اندرونی ذرائع کے مطابق اس معاملے کی مکمل انکوائری متوقع ہے، تاہم اب تک صرف چند نچلے درجے کے افسران کو معطل کیا گیا ہے۔
