امن اسی صورت ممکن ہے جب افغان طالبان دہشتگرد تنظیموں کی حمایت ترک کریں، فیلڈ مارشل

راولپنڈی (4 مارچ 2026): آرمی چیف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر نے افغان طالبان رجیم کو دوٹوک پیغام دیا ہے کہ اگر وہ امن چاہتے ہیں تو دہشتگردو تنظیموں کی حمایت ترککر دیں۔

فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ آرمی چیف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر نے مغربی سرحد پر موجودہ سکیورٹی صورتحال اور آپریشنل تیاریوں کا جائزہ لینے کیلیے جنوبی وزیرستان میں وانا کا دورہ کیا۔

فیلڈ مارشل نے مادر وطن کے دفاع میں لازوال قربانیاں دینے والے شہداء کو خراج عقیدت پیش کرنے کیلیے یادگار شہدا پر حاضری دی، پھول رکھے اور فاتحہ خوانی کی۔

اس موقع پر انہوں نے کہا کہ شہدا کی قربانیاں پاکستان کی سلامتی اور استحکام کی بنیاد ہیں۔

دورے کے دوران فیلڈ مارشل کو سکیورٹی صورتحال، انٹیلی جنس بیسڈ جاری آپریشنز اور بارڈر مینجمنٹ کیلیے کیے گئے اقدامات کے بارے میں جامع بریفنگ دی گئی۔ جنرل عاصم منیر کو جاری آپریشن غضب للحق اور پاکستان افغانستان سرحد پر ہونے والی پیشرفت کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔

سپہ سالار نے اگلے مورچوں پر تعینات افسران اور جوانوں کے ساتھ بات چیت کی اور جاری جھڑپوں کے دوران ان کی غیر متزلزل پیشہ ورانہ مہارت، آپریشنل تیاری اور بلند حوصلے کو سراہا۔ انہوں نے پاکستان کی خودمختاری کے تحفظ اور خطے میں امن و استحکام کو یقینی بنانے کیلیے ان کے ثابت قدم عزم کو سراہا۔

فیلڈ مارشل نے اس بات پر زور دیا کہ فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کی جانب سے پاکستان کے خلاف دہشتگردی کی کارروائیوں کیلیے افغان سرزمین کا استعمال ناقابل قبول ہے اور سرحدپار سے پیدا ہونے والے خطرات سے نمٹنے کیلیے تمام ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔

فیلڈ مارشل نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ دونوں فریقوں کے درمیان امن صرف اسی صورت میں قائم ہو سکتا ہے جب افغان طالبان دہشتگردی اور دہشتگرد تنظیموں کی حمایت ترک کر دیں۔

پاک فوج کی آپریشنل تیاریوں کو سراہتے ہوئے فیلڈ مارشل نے پاکستان افغانستان سرحد پر تعینات فارمیشنز کی جنگی تیاری، ہم آہنگی مکمل اعتماد کا اظہار کیا۔

وانا پہنچنے پر کور کمانڈر پشاور نے فیلڈ مارشل کا استقبال کیا۔

اسے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

*

*
*