القادر یونیورسٹی ٹرسٹ کیس:اسلامی تعلیمات کی سزا، عدلیہ کی شفافیت پر سوالیہ نشان نوید عالم صدیقی، ڈپٹی جنرل سیکرٹری پی ٹی آئی کراچی ڈویژن

پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کو القادر یونیورسٹی میں سیرت النبی ﷺ کی تعلیم عام کرنے پر 14 سال قید کی سزا سنائی گئی، جبکہ ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو 7 سال قید کا حکم دیا گیا۔ یہ فیصلہ ملک کی عدالتی تاریخ کا ایک اور سیاہ باب ہے جس کی بھرپور مذمت کرتے ہیں۔

نوید عالم صدیقی نے کہا کہ القادر یونیورسٹی کا مقصد نوجوان نسل کو اسلامی تعلیمات، اخلاقیات، انصاف اور امن کے اصولوں سے روشناس کرانا تھا، جو کسی بھی معاشرے کی بنیاد کے لیے لازمی ہے۔ عمران خان کو اس نیک مقصد پر سزا دینا ناانصافی کی بدترین مثال اور سیاسی انتقام کی بدبو ظاہر کرتا ہے۔

نوید عالم صدیقی نے کہا کہ یہ جھوٹے مقدمات نہ صرف عدلیہ کے وقار کو مجروح کر رہے ہیں بلکہ عوام کے حقِ رائے دہی پر بھی حملہ ہیں۔ یہ فیصلہ عوام اور تحریک انصاف کے کارکنان کے لیے ناقابل قبول ہے۔

نوید عالم صدیقی نے کہا کہ یہ مقدمات تحریک انصاف کے کارکنان کے حوصلے کم نہیں کر سکتے۔ عمران خان کا پیغام ہم گھر گھر پہنچا رہے ہیں اور یہ قافلہ اسی طرح آگے بڑھتا رہے گا۔ عمران خان کے خلاف ہر سازش ناکام ہوگی، ان شاء اللہ حق کی فتح ہوگی اور عمران خان جلد باعزت بری ہوں گے۔

نوید عالم صدیقی نے مزید کہا کہ القادر یونیورسٹی میں سیرت النبی ﷺ کی تعلیم دینا ایک مقدس مشن تھا۔ یہ فیصلہ انصاف کے اصولوں کے منافی ہے۔ ہم ہر قانونی و آئینی راستہ اختیار کریں گے تاکہ اس ظالمانہ فیصلے کو کالعدم قرار دلایا جا سکے۔

اسے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

*

*
*