
وفاقی وزیر برائے اطلاعات و نشریات عطا تارڑ نے کہا ہے کہ افغان طالبان نے زبردستی حکومت پر قبضہ کیا ہوا ہے اور افغان طالبان رجیم غیرقانونی نظام حکومت اور جبر کا نظام ہے۔
اپنے بیان میں عطا تارڑ کا کہنا تھاکہ پاکستان نے افغان فورسز کی بہت سی چیک پوسٹوں پر قبضہ کرلیا ہے، افغان طالبان کی جارحیت کا مؤثر طریقے سے جواب دیا گیا، افغان طالبان رجیم دہشتگرد گروپوں کی پشت پناہی کرتی ہے اور افغانستان میں دہشتگردوں کو تربیت فراہم کی جاتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں حالیہ دہشتگرد کارروائیوں کیلئے افغانستان کی سرزمین استعمال کی گئی، اسلام آباد کچہری اور ترلائی حملے میں افغان باشندے ملوث تھے۔
ان کا کہنا تھاکہ افغانستان میں خواتین ،بچے اور اقلیتیں بھی اس رجیم سے محفوظ نہیں، افغان طالبان رجیم اپنے مذموم مقاصد کیلئے مذہب کا استعمال کرتے ہیں، افغان طالبان رجیم کی حکومت غیر قانونی اور ناجائز ہے، افغان طالبان رجیم افغان شہریوں کے بنیادی حقوق کو غصب کررہی ہے۔
وفاقی وزیر کا مزید کہنا تھاکہ افغان طالبان نے زبردستی حکومت پر قبضہ کیا ہوا ہے، افغان طالبان کے تمام ضابطے عالمی قوانین کے منافی ہے، افغان طالبان میں حیثیت کے مطابق تفریق ہے، افغان طالبان میں ایلیٹ، مڈل کلاس اور دبے ہوئے طبقے ہیں، افغان طالبان میں غلامی کا نظام ہے جو اسلام کے خلاف ہے، خواتین پر تشدد ہوتا ہے جو قاہرہ اعلامیہ کے خلاف ہے۔
انہوں نے کہا کہ افغانستان میں خواتین، بچے اور اقلیتیں محفوظ نہیں ہیں، افغانستان میں 18 سال کی لڑکی کو تعلیم حاصل کرنے سے روک دیا جاتا ہے، خواتین کو تعلیم سے روکنے کے عمل کی دنیا بھر میں مذمت کی گئی ہے، افغانستان میں 2026 میں یونیورسٹیوں کو بھی بند کردیا گیا ہے، خواتین کو ان کے تعلیم حاصل کرنے کے بنیادی حق سے محروم کردیا گیا ہے۔
عطا تارڑ نے کہا کہ خواتین کو نہ بولنے کی اجازت ہے نہ ہی کام کرنے کی اجازت ہے، دنیا بھرکی انسانی حقوق کی تنظیموں نے افغان طالبان کی مذمت کی ہے، افغان طالبان رجیم کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے، افغانستان میں 80فیصد خواتین کو تعلیم سے دور رکھا گیا ہے، اس رجیم نے افغانستان میں خواتین پر تعلیم اور روزگار بند کردیا ہے ، افغان طالبان رجیم غیرقانونی نظام حکومت ہے جبر کا نظام ہے۔
