
اسلام آباد (23 فروری 2026): افغانستان میں فضائی کارروائی سے متعلق حکومت کا باضابطہ مؤقف سینیٹ میں پیش کر دیا گیا ہے، جس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ افغانستان نے طالبان کو دوسری سرحد پر منتقل کرنے کے لیے پاکستان سے 10 ارب روپے مانگے۔
وزیر پارلیمانی امور طارق فضل نے سینیٹ اجلاس میں بتایا کہ وزیر دفاع پاکستان نے افغانستان کے مطالبے پر کہا کہ 10 ارب دینے کو تیار ہیں لیکن گارنٹی دیں کہ پھر مداخلت نہیں ہوگی۔
طارق فضل نے کہا پاکستان نے افغانستان کے 3 صوبوں میں مختلف مقامات کو نشانہ بنایا، اور اس فضائی کارروائی کا ایک پس منظرہے، پاکستان نے بار بار افغانستان کو اپنی سرزمین کے استعمال کو روکنے کا کہا تھا۔
طارق فضل چوہدری کے مطابق ترلائی، بنوں اور باجوڑ میں حملوں کے تانے بانے افغانستان سے ملتے ہیں، معذرت کے ساتھ ہم لاشیں اٹھانے کے لیے نہیں، ہمیں ردعمل دینا آتا ہے، پاکستان ایئر فورس نے 21 فروری کو افغانستان کے 3 صوبوں میں کارروائی کی۔
انھوں نے کہا افغان سرزمین سے پاکستان میں دہشت گردی کی وارداتیں مسلسل جاری تھیں، ترلائی مسجد حملے کے دہشت گرد افغان ہینڈلرز کے زیر کنٹرول تھے، بنوں اور باجوڑ میں بھی خودکش حملے کیے گئے جن میں فورسز کے افسران اور جوان شہید ہوئے، افغان طالبان سے مذاکرات میں ضمانت نہ ملنے پر کارروائی ناگزیر تھی۔
وزیر پارلیمانی امور کے مطابق اسٹرائیکس صرف دہشت گرد پناہ گاہوں اور تربیتی کیمپوں پر کی گئیں، پاکستان اپنے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے، دہشت گردی ختم ہونے تک ہمارا آپریشن جاری رہے گا۔
