
اسلام آباد — ایک سنگین اور پیچیدہ مقدمہ جس میں قتل، ہنی ٹریپ، جعلی توہینِ مذہب کے الزامات اور ایف آئی اے کی مبینہ ملی بھگت جیسے سنجیدہ الزامات شامل ہیں، اب عدالتِ عالیہ اسلام آباد میں ایک مرکزی موضوع بن چکا ہے۔
مرکزی کردار کومل اسماعیل نامی خاتون ہے، جس کا تعلق میرپور، آزاد کشمیر سے بتایا جاتا ہے۔ اپریل 2021 میں ان پر الزام لگا کہ انہوں نے ڈی ایچ اے اسلام آباد میں اپنے شوہر محمد فاروقی اور بھائی تیمور کے ساتھ مل کر 36 سالہ مغیث شاہ کو قتل کیا۔ تاہم، معروف وکیل راؤ عبدالرحیم نے ان کی وکالت کی اور ٹیکنیکل بنیادوں پر کومل اسماعیل کو مقدمے سے بری کروا لیا۔ الزام ہے کہ اس کیس میں ایف آئی اے کے بعض اہلکاروں نے بھی مقدمہ خراب کرنے میں کردار ادا کیا۔
‘ایمان’ کے نام سے ہنی ٹریپ کا نیٹ ورک
بعد ازاں متعدد نوجوانوں پر توہینِ مذہب کے کیسز سامنے آئے، جن میں ایک مشترکہ کردار “ایمان” نامی خاتون کا ذکر کیا گیا — جو بعد میں کومل اسماعیل ہی ثابت ہوئیں۔ ان پر الزام ہے کہ وہ نوجوانوں کو نوکری کا جھانسہ دے کر ایک واٹس ایپ گروپ میں شامل کرتی تھیں۔ اس گروپ کی ایڈمن شپ مبینہ طور پر راؤ عبدالرحیم کے پاس تھی۔
گروپ میں گستاخانہ مواد شامل کیا جاتا، جس پر نوجوان شکایت کرتے کہ انہیں کس قسم کے گروپ میں شامل کیا گیا ہے۔ جواباً ایمان کہتی کہ اسے یہ مواد نظر نہیں آ رہا، لہٰذا انباکس میں بھیجا جائے تاکہ وہ ایف آئی اے میں رپورٹ کرے۔ جیسے ہی نوجوان وہ مواد ان کے ساتھ شیئر کرتے، ایف آئی اے کے اہلکاروں کی مدد سے ان پر توہینِ مذہب کا مقدمہ درج کر لیا جاتا اور انہیں گرفتار کر لیا جاتا۔
عدالت میں لرزہ خیز شواہد
وکلاء نے عدالت میں دلائل کے دوران بتایا کہ بیشتر مقدمات میں ملزمان نے “ایمان” کا نمبر دیا، لیکن ایف آئی اے نے کبھی اس نمبر کی تحقیق کرنے کی زحمت نہیں کی۔ گرفتار افراد کے موبائل فون ضبط کر کے انہیں شواہد کے طور پر استعمال کیا گیا اور انہیں جیلوں میں بھجوا دیا گیا۔
عدالت کو بتایا گیا کہ اب تک اس گینگ کی مبینہ کارروائیوں کے نتیجے میں تقریباً ساڑھے چار سو نوجوانوں کو جھوٹے مقدمات میں پھنسایا جا چکا ہے۔ معاملہ سامنے آنے پر 100 سے زائد نوجوانوں کے والدین نے اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کیا، جس پر عدالت نے نوٹس لیتے ہوئے جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان کو مقدمہ سونپ دیا۔
راؤ عبدالرحیم کا اعتراف اور مزید الزامات
عدالت میں پیش کردہ شواہد میں کومل اسماعیل کا قومی شناختی کارڈ اور قتل کیس کی تفصیلات شامل تھیں، جو صحافی احمد نورانی کے پلیٹ فارم “فیکٹ فوکس” کے ذریعے حاصل کی گئیں۔
ایک اور نوجوان، عبداللہ کے قتل کا الزام بھی راؤ عبدالرحیم پر ہے۔ عدالت میں سماعت کے دوران راؤ نے اعتراف کیا کہ توہینِ مذہب کا الزام لگانے کے بعد بھی وہ عبداللہ سے رابطے میں تھا اور ایف آئی اے کو اس کی لوکیشن فراہم کرتا رہا۔ عدالت میں اس انکشاف پر شدید حیرت کا اظہار کیا گیا۔
تشدد، اغوا اور جعلی اعترافات
مبینہ طور پر اس گینگ نے نہ صرف نوجوانوں کو اغوا کیا بلکہ انہیں تشدد کا نشانہ بھی بنایا گیا، ان سے سادہ کاغذوں پر دستخط اور انگوٹھے لگوائے گئے اور ان کے موبائل فون قبضے میں لے کر مواد گھڑا گیا۔
رپورٹس کے مطابق، چھ نوجوان جیلوں میں تشدد کی وجہ سے جاں بحق ہو چکے ہیں۔
تحقیقاتی کمیشن کا مطالبہ
اس معاملے کے منظرِ عام پر آنے کے بعد سول سوسائٹی، متاثرہ خاندانوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے آزاد تحقیقاتی کمیشن کے قیام کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے تاکہ اس پورے معاملے کی غیرجانبدار اور شفاف تحقیقات کی جا سکیں۔
اسلام آباد ہائیکورٹ میں کیس کی روزانہ کی بنیاد پر سماعت جاری ہے، اور ہر گزرتے دن کے ساتھ اس گینگ کے مبینہ کردار اور نیٹ ورک کی تفصیلات منظرِ عام پر آ رہی ہیں۔
