جس اسرائیلی حملے میں آیت اللہ خامنہ ای شہید ہوئے اس میں ان کی اہلیہ شدید زخمی ہوگئی تھیں

آیت اللہ علی خامنہ ای کی اہلیہ 79 سالہ منصوره خجستہ باقرزاده نے بھی دوران علاج اسپتال میں دم توڑ دیا۔
ایرانی میڈیا کے مطابق منصوره خجسته باقرزاده کو اسی حملے میں شدید زخمی حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا تھا جس میں ان کے شوہر آیت اللہ خامنہ ای شہید ہوگئے تھے۔
انھیں اسپتال میں طبی امداد دی جا رہی تھی لیکن وہ جانبر نہ ہوسکیں اور خالق حقیقی سے جا ملیں۔ اس قبل بتایا گیا تھا کہ آیت اللہ خامنہ ای کی اہلیہ کوما میں ہیں۔
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ اسرائیل حملے میں خامنہ ای کے خاندان کے دیگر افراد بھی شہید ہوگئے جن میں ایک بیٹی، داماد اور ایک پوتا بھی شامل ہے۔
آیت اللہ خامہ ای کی اہلیہ منصوره خجست باقرزاده 1947 میں ایران کے مذہبی شہر مشہد میں ایک مذہبی اور بااثر خاندان میں پیدا ہوئیں۔
ان کے والد ایک معروف تاجر تھے جبکہ ان کے بھائی حسن باقرزاده ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے کے نائب سربراہ بھی رہ چکے تھے۔
منصورہ خجستہ باقرزادہ کی 1965 میں آیت اللہ علی خامنہ ای سے شادی ہوئی تھی اور ان چار بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں۔
روحانی پیشوا آیت اللہ خامنہ ای ایران کی طاقتور ترین شخصیت تھے لیکن اس کے باوجود ان کی اہلیہ اپنے آپ کو عوامی اجتماعات سے دور رکھتی تھیں۔
