
ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کا کہنا ہے کہ آپریشن غضب للحق میں 274 طالبان مارے گئے ہمارے 12 جوان شہید ہوئے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردوں کو جیسا رسپانس ملنا چاہیے تھا بالکل ویسا ہی دیا ہے، جیسے معرکہ حق میں پوری قوم بنیان مرصوص بن کر کھڑی تھی یہی مناظر کل بھی دیکھے گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ منہ توڑ جواب میں 274 خوارج ہلاک400 سے زائد زخمی ہوئے، افغان طالبان رجیم کی 73 سے زائد پوسٹیں مکمل طور پر تباہ کی جاچکی ہیں، طالبان رجیم کی 18 پوسٹوں پر قبضہ کیا جاچکا ہے، دشمن کے 115 ٹینک اور بکتر بند گاڑیاں تباہ اور قبضہ کرلی گئی ہیں۔
ترجمان پاک فوج کا کہنا ہے کہ افغان طالبان چھوٹے بڑے ہتھیار اور کواڈ کاپٹر بھی لے کر آئے، جہاں جہاں سے حملہ ہوا پاک فوج پاک فوج نے ایسا منہ توڑ جواب دیا کہ دنیا نے دیکھا ،جو دہشت گرد سہولت کاری کرتے ہیں انہیں چن چن کر نشانہ بنایا گیا۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ کابل، قندھار، پکتیا، خوست، پکتیکا میں 22 فضائی ٹارگٹ بیسڈ آپریشن کیے، ٹارگٹڈ بیسڈ آپریشن میں ان علاقوں میں کوئی بھی سویلین نہیں مارا گیا، بریگیڈ، بٹالین ہیڈ کوارٹر سیکٹر ہیڈ کوارٹر، اسلحہ ڈپو کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حملوں میں بزدل افغان طالبان اپنی چیک پوسٹ اور لاشیں چھوڑ کر بھاگے، دشمن کے خلاف لڑتے ہوئے اب تک 12 سپوتوں نے جام شہادت نوش کیا ہے، آپریشن میں 27 جوان زخمی ہوئے اور ایک جوان مسنگ ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاک افواج کے آگے پیچھے، دائیں بائیں اقوام پاکستان کھڑی ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ افغان طالبان سوشل میڈیا پر انتہائی بے شرمی سے دھمکیاں دیتے ہیں، افغان طالبان نے کوشش کرکے بھی دیکھ لیا اور پھر منہ توڑ جواب بھی ملا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں دہشت گردی کے ہر واقعے میں بھارتی اسپانسر شپ ہے، اگر کسی نے اپنا شوق پورا کرنا ہے تو پھر کرکے دیکھ لے، پاک افواج سرحدوں کی حفاظت کرنا بھرپور طریقے سے جانتی ہے۔
ترجمان پاک فوج نے کہا کہ افغانستان میں دہشت گردوں کو محفوظ پناہ گاہیں میسر ہیں، افغانستان میں دہشت گردوں سے صرف پاکستان یا خطے کو نہیں دنیا کو خطرہ ہے، پاکستان میں دہشت گردی ہوگی تو دہشت گردوں، ان کے سرپرستوں کی کوئی جگہ محفوظ نہیں رہے گی۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ افغان طالبان رجیم کو پاکستان اور دہشت گرد تنظیم میں کسی ایک کو چننا ہوگا، افغان طالبان کالعدم ٹی ٹی پی، بی ایل اے، داعش کو چنے یا پھر پاکستان کو فیصلہ کرلیں۔
انہوں نے کہا کہ اب اگر کوئی دہشت گردی پاکستان میں ہوتی ہے تو اس کے ذمہ داروں کو جواب دیا جائے گا، وہ جو کہتے تھے کہ ہم نے دہشت گردی کی ہے اب ان کے سہولت کاروں کو بھی نہیں چھوڑا جائے گا۔
