
کراچی کی سیشن عدالت نے سندھ چائلڈ میرج ریسٹرینٹ ایکٹ 2013 کے تحت ایک اہم قانونی وضاحت جاری کی ہے۔ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ظہور احمد چانڈیو نے فیصلے میں قرار دیا ہے کہ کم عمری کی شادی پر سزا ہونے سے نکاح خود بخود کالعدم یا ختم نہیں ہوتا۔ عدالت نے ایک شخص کو کم سن لڑکی سے شادی کرنے پر 2 سال قید کی سزا سناتے ہوئے واضح کیا کہ یہ ایکٹ ایک تعزیری قانون ہے جس کا مقصد روک تھام ہے، لیکن اس میں نکاح کی منسوخی کی کوئی گنجائش موجود نہیں ہے؛ نکاح کی قانونی حیثیت کا فیصلہ صرف فیملی
کورٹ ہی کر سکتی ہے۔
:اہم نکات
سزا کا فیصلہ: ملزم ذوالقرنین عرف چیکو کو سندھ چائلڈ میرج ریسٹرینٹ ایکٹ کے تحت 2 سال قید اور 25 ہزار روپے جرمانہ کی سزا سنائی گئی۔
سنگین دفعات سے بریت: ثبوتوں کی عدم دستیابی پر عدالت نے ملزم کو اغوا (365-B) اور زیادتی (376-3) کے الزامات سے بری کر دیا، کیونکہ لڑکی نے عدالت میں بیان دیا کہ اس نے اپنی مرضی سے شادی کی تھی۔
طبی معائنہ: میڈیکل رپورٹ کے مطابق واقعے کے وقت لڑکی کی عمر 14 سے 15 سال کے درمیان تھی، جبکہ لڑکی نے خود کو 18 سالہ ظاہر کیا تھا۔
عدالتی مشاہدہ: جج نے ریمارکس دیے کہ "نکاح کی حیثیت ایک الگ معاملہ ہے جس کا تعین متعلقہ پرسنل لا یا فیملی کورٹس میں کیا جانا چاہیے، چائلڈ میرج ایکٹ صرف سزا دیتا ہے، نکاح منسوخ نہیں کرتا۔”
:قانونی توازن
عدالت نے اس فیصلے کے ذریعے فوجداری احتساب (Criminal Accountability) اور پرسنل لا کے اصولوں کے درمیان توازن برقرار رکھا ہے۔ یہ فیصلہ واضح کرتا ہے کہ اگرچہ کم عمری کی شادی قانوناً جرم ہے، لیکن اس کے نتیجے میں ہونے والے سماجی اور قانونی بندھن (نکاح) کی قانونی حیثیت کے لیے الگ فورم سے رجوع کرنا ضروری ہے۔
