
کراچی : مہران ٹاؤن میں شیطانی شکل کا مجسمہ بنوانے کی اصل کہانی سامنے آگئی ، عمران نامی مجسمہ ساز نے اپنا وضاحتی بیان ریکارڈ کروادیا۔
تفصیلات کے مطابق کراچی کے علاقے مہران ٹاؤن میں ایک دکان سے برآمد ہونے والے ‘شیطان نما’ مجسمے نے علاقے میں خوف اور سنسنی پھیلا دی تھی، تاہم پولیس کی فوری کارروائی اور تحقیقات کے بعد اس مجسمے کی حقیقت کا پتہ لگا لیا۔
سوشل میڈیا پر شیطان کی شکل کے ایک بڑے مجسمے کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد کورنگی صنعتی ایریا کی پولیس نے فوری ایکشن لیا۔
پولیس نے دکان پر چھاپہ مار کر تھرمو پول سے بنے اس مجسمے کو قبضے میں لے کر تھانے منتقل کر دیا۔
کارروائی کے وقت دکاندار وہاں موجود نہیں تھا، تاہم بعد ازاں پولیس نے مجسمہ بنانے والے کاریگر کو تلاش کر لیا۔
عمران نامی مجسمہ ساز نے پولیس کو اپنا وضاحتی بیان ریکارڈ کروایا ، جس میں بتایا یہ مجسمہ ایک مذہبی اسکالر علامہ شبر زیدی نے بنوایا تھا اور یہ پتلا یومِ القدس کے موقع پر احتجاجی جلوس میں نذرِ آتش کرنا تھا۔
ایران میں بھی 11 فروری کو صیہونیت کی علامت کے طور پر ایسے مجسمے جلائے گئے تھے، اسی طرز پر اسے یہاں بھی احتجاج کے طور پر جلایا جانا تھا۔
واضح رہے کہ شہریوں کی جانب سے ‘بعل’ (شیطانی علامت) سے مشابہہ اس مجسمے پر اعتراض اٹھایا گیا تھا جس پر امن و امان کی صورتحال کے پیشِ نظر کارروائی کی گئی۔
