کراچی میں دہشت گردی کا بڑا منصوبہ ناکام؛ بی ایل اے کا اہم کمانڈر سہیل بلوچ مقابلوں میں ہلاک


کراچی: شہر میں ممکنہ بڑے دہشت گرد حملے کا منصوبہ ناکام بنا دیا گیا، 17 فروری کوسی ٹی ڈی سندھ سے مقابلے میں ہلاک دہشت گرد انتہائی مطلوب نکلا۔

تفصیلات کے مطابق کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ سندھ نے کراچی کو بڑی تباہی سے بچاتے ہوئے ایک انتہائی مطلوب دہشت گرد کو ہلاک کر دیا۔

سی ٹی ڈی سندھ نے بتایا کہ 17 فروری کو ہونے والے مقابلے میں ہلاک ہونے والے دہشت گرد انتہائی مطلوب نکلا ، جس کی شناخت سہیل بلوچ عرف گرگ بلوچ کے نام سے ہوئی ہے۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ ہلاک دہشت گرد کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (BLA) کا اہم کمانڈر اور ‘بولان ایریا فتح اسکواڈ’ کا انچارج تھا۔

سی ٹی ڈی نے کہا کہ سہیل بلوچ بی ایل اے کے اہم کمانڈروں رحمان گل، ڈاکٹر مکھو اور ملا امین کے ساتھ براہِ راست رابطے میں تھا اور نیٹ ورک چلا رہا تھا۔

ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ ملزم نے 2022 میں بی ایل ایف جوائن کی تھی اور بطور کمانڈر دہشت گردی کی متعدد کارروائیوں میں ملوث رہا۔

سی ٹی ڈی حکام کے مطابق ہلاک دہشت گرد 50 سے زائد سیکیورٹی اہلکاروں اور شہریوں کی شہادت میں ملوث تھا، ملزم 12 مارچ کو کھڈ کوچہ میں ڈی سی پنجگور ذاکر بلوچ پر ہونے والے حملے اور ان کی شہادت کا مرکزی کردار تھا۔

اس کے علاوہ 11 مارچ 2025 کو جعفر ایکسپریس ٹرین کو نشانہ بنانے کے لیے 5 فدائین (خودکش حملہ آور) اسی نے بھیجے تھے۔

ملزم مختلف مقامات پر ہائی ویز بلاک کرنے اور مسافروں کو ہراساں کرنے کی کارروائیوں میں بھی ملوث تھا۔

ترجمان نے مزید بتایا کہ شاہ لطیف ٹاؤن میں ہونے والے اس مقابلے میں سہیل بلوچ کے ساتھ اس کے دیگر ساتھی جلیل عرف نوید، نیاز عرف گنگ اور حمدان عرف فرید بھی ہلاک ہوئے تھے۔

سی ٹی ڈی حکام کا کہنا ہے کہ اس کارروائی سے کراچی میں دہشت گردی کا ایک بڑا منصوبہ ناکام بنا دیا گیا ہے۔

حکام نے ہلاک دہشت گردوں کے دیگر سرپرستوں، ساتھیوں اور سہولت کاروں کی گرفتاری کے لیے خصوصی ٹیمیں تشکیل دے دی ہیں تاکہ اس نیٹ ورک کا مکمل خاتمہ کیا جا سکے۔

اسے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

*

*
*