پاکستان کی حمایت پر بھارت میں ترک مصنوعات کا بائیکاٹ

جنگی محاذ پر پاکستان سے ہزیمت کا سامنا کرنے والے بھارتی شہری اب پاکستان کی حمایت کرنے والے ترکیہ کی مصنوعات کا مکمل بائیکاٹ کرنے لگے ہیں۔ بھارت میں چاکلیٹ، کافی، جیم اور کاسمیٹکس سے لے کر کپڑوں تک ہر طرح کی ترک مصنوعات کا بائیکاٹ کیا جا رہا ہے۔

آل انڈیا کنزیومر پروڈکٹس ڈسٹری بیوٹرز فیڈریشن نے پیر کو اپنے بیان میں کہا کہ ہم نے تمام ترک مصنوعات کا غیر معینہ مدت کےلیے مکمل بائیکاٹ شروع کردیا جن میں چاکلیٹ، ویفرز، جام، بسکٹ اور سکن کیئر کی مصنوعات شامل ہیں۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ بھارتی شہریوں کا یہ بائیکاٹ اہم ہوسکتا ہے کیونکہ اس سے ترکیہ کی تقریباً 234 ملین ڈالرز مالیت کی غذائی مصنوعات متاثر ہوں گی۔

اگر بھارتی شہریوں کے بائیکاٹ سے ترک فیشن انڈسٹری پر پڑنے والے اثر کا جائزہ لیا جائے تو ٹریڈنگ اکانومکس ویب سائٹ کے مطابق گزشتہ سال بھارت نے ترکیہ سے81 ملین ڈالر مالیت کے ملبوسات درآمد کیے تھے.


Times Of Karachi

پاکستان بھارت کشیدگی دنیا
پاکستان کی حمایت پر بھارت میں ترک مصنوعات کا بائیکاٹ

by
Web Desk
May 20, 2025
India Boycott Turkish Products Support Pakistan in War

جنگی محاذ پر پاکستان سے ہزیمت کا سامنا کرنے والے بھارتی شہری اب پاکستان کی حمایت کرنے والے ترکیہ کی مصنوعات کا مکمل بائیکاٹ کرنے لگے ہیں۔ بھارت میں چاکلیٹ، کافی، جیم اور کاسمیٹکس سے لے کر کپڑوں تک ہر طرح کی ترک مصنوعات کا بائیکاٹ کیا جا رہا ہے۔

آل انڈیا کنزیومر پروڈکٹس ڈسٹری بیوٹرز فیڈریشن نے پیر کو اپنے بیان میں کہا کہ ہم نے تمام ترک مصنوعات کا غیر معینہ مدت کےلیے مکمل بائیکاٹ شروع کردیا جن میں چاکلیٹ، ویفرز، جام، بسکٹ اور سکن کیئر کی مصنوعات شامل ہیں۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ بھارتی شہریوں کا یہ بائیکاٹ اہم ہوسکتا ہے کیونکہ اس سے ترکیہ کی تقریباً 234 ملین ڈالرز مالیت کی غذائی مصنوعات متاثر ہوں گی۔

اگر بھارتی شہریوں کے بائیکاٹ سے ترک فیشن انڈسٹری پر پڑنے والے اثر کا جائزہ لیا جائے تو ٹریڈنگ اکانومکس ویب سائٹ کے مطابق گزشتہ سال بھارت نے ترکیہ سے81 ملین ڈالر مالیت کے ملبوسات درآمد کیے تھے۔

مزید پڑھیں:ترک صدر کا پاکستانی قوم کی واضح حمایت کا اعلان

والمارٹ کی حمایت یافتہ فلپ کارٹ اور مکیش امبانی کی ریلائنس کمپنی کی ملکیت میں موجود بھارتی فیشن ویب سائٹس نے ترک کپڑوں کے متعدد برانڈز کو اپنی ویب سائٹس سے ہٹا دیا۔ بھارتی حکومت کی جانب سے کمپنیوں کو ترکیہ کا بائیکاٹ کرنے کا باقاعدہ کوئی حکم نہیں دیا گیا۔

یہاں اس بات کا ذکر کرنا اہم ہے کہ ترکیہ سے بھارت جو سالانہ 2.7 بلین ڈالرز کی اشیاء کی درآمد کرتا ہے ان میں بڑی تعداد میں معدنی ایندھن اور قیمتی دھاتیں شامل ہیں۔ علاوہ ازیں، بھارتی ریاست ہماچل پردیش کے وزیرِ اعلیٰ سکھویندر سنگھ سکھو نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ وہ ترکیہ سے سیب درآمد کرنے پر پابندی کا مطالبہ کریں گے۔ واضح رہے کہ بھارت نے گزشتہ سال ترکیہ سے تقریباً 60 ملین ڈالرز کی مالیت کے سیب درآمد کیے تھے۔

اسے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

*

*
*