نہم و دہم کے امتحانات محض نمبروں کی دوڑ نہیں، کردار سازی اور فکری تربیت کا اہم مرحلہ ہیں: چیئرمین غلام حسین سوہو

رٹہ سسٹم، نقل اور غیر منصفانہ ذرائع تعلیمی معیار کے لیے سنگین خطرہ قرار

زیرو ٹالرنس پالیسی، تصوراتی فہم اور اطلاقی علم کو امتحانی نظام کا حصہ بنانے پر زور

کراچی(اسٹاف رپورٹر) چیئرمین بورڈ آف سیکنڈری ایجوکیشن کراچی (BSEK) غلام حسین سوہو نے جماعت نہم و دہم کے سالانہ امتحانات کے تناظر میں اپنے خصوصی پیغام میں کہا ہے کہ یہ امتحانات صرف تعلیمی درجہ بندی یا نمبروں کے حصول کا ذریعہ نہیں بلکہ طلبہ کی فکری پختگی، اخلاقی تربیت اور عملی زندگی کے لیے تیاری کا بنیادی مرحلہ ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر امتحانات کا مقصد صرف زیادہ سے زیادہ نمبر حاصل کرنا رہ جائے تو تعلیم اپنی اصل روح کھو دیتی ہے۔

انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ ہمارے معاشرے میں کامیابی کا معیار محض نمبروں تک محدود ہو کر رہ گیا ہے، چاہے اس کے لیے غیر منصفانہ اور غیر قانونی ذرائع ہی کیوں نہ اختیار کیے جائیں۔ یہ رجحان نہ صرف طلبہ کی تخلیقی اور تحقیقی صلاحیتوں کو متاثر کر رہا ہے بلکہ قومی تعلیمی ڈھانچے کو بھی کمزور بنا رہا ہے۔

غلام حسین سوہو نے کہا کہ آج کی دنیا علم، مہارت، قابلیت، تجربے اور اخلاقی دیانت کی بنیاد پر آگے بڑھ رہی ہے۔ ترقی یافتہ اقوام اپنے تعلیمی نظام میں تنقیدی سوچ، مسئلہ حل کرنے کی صلاحیت اور عملی مہارت کو مرکزی حیثیت دیتی ہیں، جبکہ ہمارے ہاں رٹہ سسٹم کو علم پر فوقیت دی جا رہی ہے۔ اس طرزِ فکر کے نتیجے میں طلبہ محض امتحان پاس کرنے تک محدود ہو جاتے ہیں اور عملی زندگی کے تقاضوں کا سامنا کرنے میں دشواری محسوس کرتے ہیں۔

انہوں نے نقل اور ناجائز ذرائع کے بڑھتے ہوئے رجحان کو نہایت تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ عمل نہ صرف قانون شکنی ہے بلکہ طلبہ کی اخلاقی بنیادوں کو بھی کمزور کرتا ہے۔ اگر امتحانی مراکز پر شفافیت اور دیانت کو یقینی نہ بنایا گیا تو تعلیمی نظام کی ساکھ متاثر ہوگی۔

چیئرمین نے اس بات پر زور دیا کہ امتحانات میں تصوراتی فہم، تجزیاتی صلاحیت اور اطلاقی علم کی جانچ کو یقینی بنایا جائے تاکہ طلبہ محض یادداشت کے بجائے سمجھ بوجھ کی بنیاد پر سیکھ سکیں۔ انہوں نے بورڈ انتظامیہ کو ہدایت کی کہ ناجائز ذرائع کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر سختی سے عمل درآمد کیا جائے اور امتحانی عمل کو شفاف، منصفانہ اور قابلِ اعتماد بنایا جائے۔

انہوں نے والدین، اساتذہ اور تعلیمی اداروں سے بھی اپیل کی کہ وہ طلبہ میں ایمانداری، خود انحصاری اور محنت کے جذبے کو فروغ دیں۔ ان کے بقول تعلیم کا مقصد صرف ڈگری یا گریڈ حاصل کرنا نہیں بلکہ ایسے باکردار اور باصلاحیت افراد تیار کرنا ہے جو معاشرے کی مثبت تعمیر میں کردار ادا کر سکیں۔

اپنے پیغام کے اختتام پر انہوں نے طلبہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ امتحان نقل کا نہیں بلکہ علم اور کردار کا امتحان ہے۔ جو علم آپ خود محنت سے حاصل کرتے ہیں، وہی آپ کا حقیقی سرمایہ ہے اور مستقبل میں کامیابی کی ضمانت بھی۔

چیئرمین بی ایس ای کے نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ بورڈ ایک ایسے امتحانی نظام کے قیام کے لیے کوشاں رہے گا جو معیار، شفافیت اور دیانت کے اصولوں پر مبنی ہو اور جو نئی نسل کو حقیقی معنوں میں علمی و اخلاقی بنیاد فراہم کر سکے۔

اسے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

*

*
*