عدالت نے گواہان کو طلب کرلیا

انسداد دہشت گردی کی عدالت میں ٹاؤن چیئرمین فرحان غنی اور دیگر ملزمان کے خلاف سرکاری ملازمین پر تشدد کے کیس کی سماعت ہوئی، جس میں ملزمان، تفتیشی افسر وسیم اور دونوں جانب کے وکلا عدالت میں پیش ہوئے۔
سماعت کے دوران عدالت نے استفسار کیا کہ کتنے گواہان کے بیانات ریکارڈ کیے گئے اور کب کیے گئے؟ جس پر تفتیشی افسر نے بتایا کہ دو گواہوں کے بیانات 24 اگست کو قلم بند کیے گئے تھے۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ گواہوں کے مطابق اس دوران سرکاری کام رکوا دیا گیا تھا۔
سماعت کے دوران وکیل صفائی نے مداخلت کی کوشش کی تو عدالت نے ہدایت دی کہ صبر کا دامن تھامیں، موقع دیا جائے گا۔ عدالت نے مزید سوال کیا کہ انسداد دہشت گردی ایکٹ کی دفعہ 497-II بی اس کیس پر لاگو ہوتی ہے یا نہیں؟ اور ملزمان کو کس قانون کے تحت ضمانت دی گئی؟
پراسیکیوٹر نے مؤقف اختیار کیا کہ کیس کی شفاف تحقیقات کی گئی ہیں، تاہم اس میں انسداد دہشت گردی کا خصوصی قانون لاگو نہیں ہوتا۔ یہ اے ٹی سی کا کیس نہیں بنتا، اس لیے باقاعدہ درخواست دی جا رہی ہے۔
تفتیشی افسر نے بتایا کہ دو گواہوں کے بیانات قلم بند کرنے کے بعد فریقین میں صلح ہوگئی، جس پر عدالت نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ انسداد دہشت گردی قانون میں کمپرومائز کی کوئی گنجائش نہیں۔ عدالت نے سوال کیا کہ مدعی کا بیان کس قانون کے تحت ریکارڈ کیا گیا؟
عدالت نے آئندہ سماعت پر گواہان کو طلب کرنے کا حکم دیا جبکہ مقدمے کی کارروائی 30 ستمبر تک ملتوی کردی گئی۔
