
کراچی: سیاسی و سماجی رہنما رامش عظیم نے 21 رمضان المبارک، یومِ شہادت امیرالمؤمنین حضرت علی ابنِ ابی طالبؑ کے موقع پر اپنے خصوصی بیان میں کہا ہے کہ حضرت علیؑ کی شہادت اسلامی تاریخ کا ایک عظیم اور دردناک باب ہے، جو ہمیں حق و صداقت، صبر و استقامت اور عدل و انصاف کی ایسی لازوال مثالیں فراہم کرتا ہے جو قیامت تک انسانیت کے لیے مشعلِ راہ رہیں گی۔
انہوں نے کہا کہ حضرت علیؑ وہ عظیم ہستی ہیں جنہوں نے اپنی پوری زندگی دینِ اسلام کی سربلندی، عدل کے قیام اور مظلوموں کی حمایت کے لیے وقف کر رکھی تھی۔ آپؑ نہ صرف رسولِ اکرم ﷺ کے قریبی رفیق اور داماد تھے بلکہ اسلام کے اولین محافظوں میں شامل تھے۔ آپؑ نے ہر مشکل گھڑی میں اسلام کا پرچم بلند رکھا اور ہمیشہ حق کا ساتھ دیا۔
رامش عظیم نے کہا کہ 19 رمضان المبارک کو مسجدِ کوفہ میں نمازِ فجر کے دوران آپؑ پر قاتلانہ حملہ کیا گیا اور آپؑ نے زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے 21 رمضان المبارک کو جامِ شہادت نوش کیا۔ یہ واقعہ تاریخِ اسلام کا ایک انتہائی افسوسناک اور دل دہلا دینے والا سانحہ ہے جس نے امتِ مسلمہ کو غم اور سوگ میں مبتلا کر دیا۔
انہوں نے کہا کہ حضرت علیؑ کی شہادت ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ حق اور انصاف کی راہ ہمیشہ قربانیوں سے بھری ہوتی ہے۔ آپؑ نے اپنی زندگی کے ہر لمحے میں عدل و انصاف کو مقدم رکھا اور اپنی حکمرانی میں مساوات، دیانت اور انسان دوستی کی ایسی مثالیں قائم کیں جو آج بھی حکمرانوں اور معاشروں کے لیے قابلِ تقلید ہیں۔
رامش عظیم نے کہا کہ حضرت علیؑ نہ صرف ایک عظیم مجاہد اور بہادر سپہ سالار تھے بلکہ علم و حکمت کے بھی سمندر تھے۔ آپؑ کے اقوال اور تعلیمات آج بھی دنیا بھر میں علم و دانائی کے متلاشی افراد کے لیے رہنمائی کا ذریعہ ہیں۔ رسولِ اکرم ﷺ کا یہ ارشاد کہ “میں علم کا شہر ہوں اور علیؑ اس کا دروازہ ہیں” آپؑ کے علمی مقام اور فضیلت کو واضح کرتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ حضرت علیؑ کی شہادت ہمیں ظلم کے خلاف ڈٹ کر کھڑے ہونے اور مظلوم کا ساتھ دینے کا درس دیتی ہے۔ آپؑ نے ہمیشہ کمزور اور مظلوم طبقات کے حقوق کا تحفظ کیا اور حکمرانی کے دوران انصاف کو اپنی اولین ترجیح بنایا۔
رامش عظیم نے کہا کہ آج کے دور میں بالخصوص نوجوان نسل کو حضرت علیؑ کی سیرت اور آپؑ کی شہادت کے پیغام کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ اگر نوجوان حضرت علیؑ کی شجاعت، علم دوستی، صبر اور انصاف پسندی کو اپنی زندگی کا حصہ بنا لیں تو معاشرے میں امن، اتحاد اور مثبت تبدیلی پیدا ہو سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ حضرت علیؑ کا یہ قول آج بھی ہمارے لیے رہنمائی فراہم کرتا ہے:
“لوگ دو طرح کے ہیں، یا تو وہ تمہارے دینی بھائی ہیں یا انسانیت میں تمہارے برابر ہیں۔”
آخر میں رامش عظیم نے کہا کہ یومِ شہادتِ حضرت علیؑ ہمیں اس عہد کی یاد دلاتا ہے کہ ہمیں اپنے معاشرے میں انصاف، مساوات اور انسان دوستی کو فروغ دینا ہوگا۔ اگر ہم حضرت علیؑ کی تعلیمات کو اپنی عملی زندگی کا حصہ بنا لیں تو ایک ایسا معاشرہ قائم کیا جا سکتا ہے جہاں حق، عدل اور انسانیت کو حقیقی مقام حاصل ہو۔
