سیپرا کے قوانین محض رسمی؟ پسندیدہ کمپنیوں کو نوازنے کے الزامات

*سیپرا کی فعالیت یا ناکارکردگی؟ شفافیت کا خواب ابھی باقی ہے*

*جب ضابطے قانون بن جائیں اور عملداری کہیں نہ ہو*

*شفافیت کے دعوے، مگر سیپرا کی کارکردگی پر سوال بدستور قائم*


کراچی (خصوصی رپورٹ) سندھ میں اربوں روپے کے ترقیاتی منصوبوں کے ٹینڈرز میں سیپرا (سندھ پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی) کو قانونی طور پر ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت حاصل ہے، مگر حالیہ برسوں میں سامنے آنے والے شواہد نے کئی سوالات کو جنم دیا ہے۔ کیا سیپرا واقعی شفافیت کا ضامن ہے یا صرف کاغذی کارروائیوں تک محدود ہو چکا ہے؟

سیپرا کا قیام اس مقصد کے لیے عمل میں آیا تھا کہ سرکاری محکموں، بلدیاتی اداروں اور نیم خود مختار تنظیموں کی خریداری اور ترقیاتی کاموں میں شفافیت، مقابلے اور میرٹ کو یقینی بنایا جا سکے۔ سیپرا رولز 2010 کے تحت تمام ادارے ہر قسم کے ٹینڈرز انہی قواعد کے مطابق جاری کرنے کے پابند ہیں۔

عملی طریقۂ کار کے مطابق، کسی بھی منصوبے کا آغاز متعلقہ ادارے کی جانب سے ٹینڈر کی اشاعت سے ہوتا ہے، جو سیپرا کی ویب سائٹ اور اخبارات میں مشتہر کیا جاتا ہے۔ اس کے بعد کمپنیوں سے بولیاں طلب کی جاتی ہیں، تکنیکی و مالی جانچ کے مراحل طے کیے جاتے ہیں اور پھر سب سے موزوں کمپنی کو ٹھیکہ دیا جاتا ہے۔ ویب سائٹ پر ٹینڈرز، نتائج اور معاہدوں کی تفصیلات بھی عوامی دسترس میں ہوتی ہیں تاکہ شفافیت یقینی بنائی جا سکے۔

تاہم زمینی حقائق اس کے برعکس تصویر پیش کرتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق کئی ترقیاتی منصوبوں میں سیپرا قوانین کی صریح خلاف ورزیاں رپورٹ ہوئی ہیں۔ بعض سرکاری محکمے مخصوص کمپنیوں کو نوازنے کے لیے ٹینڈر کی شرائط اس انداز سے تیار کرتے ہیں کہ غیر متعلقہ کمپنیاں خود بخود مقابلے سے باہر ہو جائیں۔

ایک سینئر افسر نے بتایا کہ کئی بار پسندیدہ کمپنیوں کو فائدہ دینے کے لیے معاملات ٹینڈر اشاعت سے پہلے ہی طے کر لیے جاتے ہیں، بعد کی کارروائیاں محض رسمی کاغذی کارروائی ہوتی ہیں۔

متاثرہ کمپنیاں شکایات درج کروانے کے لیے سیپرا کی شکایتی کمیٹی سے رجوع تو کر سکتی ہیں، مگر متعدد مواقع پر شکایات پر کوئی کارروائی نہ ہونے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ بعض معاملات میں تو شکایت کنندگان کو دباؤ یا انتقامی کارروائیوں کا بھی سامنا کرنا پڑا ہے۔

پبلک پالیسی پر گہری نظر رکھنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ سیپرا جیسے اداروں کی افادیت اسی وقت ممکن ہے جب ان کے قواعد و ضوابط پر من و عن عمل کیا جائے، بصورتِ دیگر اگر سیاسی یا محکمانہ مداخلت آ جائے تو شفافیت صرف فائلوں تک محدود ہو کر رہ جاتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ترقیاتی منصوبوں میں اگر میرٹ کو نظرانداز کیا جائے تو اس کا خمیازہ عوام کو بھگتنا پڑتا ہے۔ ناقص مٹیریل، تاخیر اور لاگت میں ہوشربا اضافہ عوامی ٹیکس کے ضیاع کے مترادف ہوتا ہے۔ یہ حقیقت بھی نظرانداز نہیں کی جا سکتی کہ اگر سیپرا کا کردار مؤثر اور غیر جانبدار ہو تو ترقیاتی منصوبے نہ صرف مقررہ وقت پر مکمل ہو سکتے ہیں بلکہ ان کا معیار بھی بہتر ہو سکتا ہے۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ سیپرا جیسے ادارے آزادانہ طور پر کام کریں، ان پر سیاسی یا محکمانہ دباؤ نہ ہو، اور ہر منصوبے میں شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے مؤثر نگرانی کا نظام تشکیل دیا جائے۔

اسے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

*

*
*