سندھ یوتھ کارڈ: ایک لاکھ نوجوانوں کے لیے بلاسود قرض، اسکالرشپ اور ٹریننگ کے منصوبے کا مسودہ تیار

کراچی (05 مارچ 2026): حکومت سندھ نے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی ہدایت پر سندھ یوتھ کارڈ پروگرام کا مسودہ تیار کر لیا ہے۔

سندھ کے وزیر کھیل و امورِ نوجوانان سردار محمد بخش مہر کی زیرِ صدارت یوتھ کارڈ کے اجرا سے متعلق دوسرا اجلاس منعقد ہوا، جس میں سیکریٹری کھیل منور علی مہیسر، ڈائریکٹر اسد اسحاق اور چیف انجنیئر محمد اسلم مہر نے شرکت کی، اجلاس میں یوتھ کارڈ کے اجرا سے متعلق تیار کردہ طریقہ کار کے مسودے پر بریفنگ دی گئی۔

سیکریٹری کھیل منور علی مہیسر نے صوبائی وزیر کو یوتھ کارڈ کے طریقۂ کار کا حتمی مسودہ پیش کیا، پہلے مرحلے میں 30 اضلاع کے ایک لاکھ نوجوانوں کو یوتھ کارڈ دیا جائے گا۔

وزیر کھیل سردار محمد بخش مہر کے مطابق یوتھ کارڈ سندھ کا ڈومیسائل رکھنے والے 15 سے 29 سال تک کے عمر والے نوجوانوں کو دیا جائے گا، نوجوانوں کو صوبے کے تمام اضلاع کے یوتھ ڈولپمینٹ سینٹرز میں تربیت دی جائے گی اور انھیں فعال بنایا جائے گا۔

سندھ یوتھ کارڈ گرلز، بوائز، اقلیتی اور خصوصی افراد کو ملے گا، کارڈ رکھنے والے نوجوانوں کے لیے اسکالرشپ، بلاسود قرض، انٹرن شپ اور بیرونِ ملک روزگار کے لیے ٹریننگ فراہم کی جائے گی۔

کارڈ رکھنے والی نوجوان خواتین کے لیے پنک اسکوٹی یا متبادل آمد و رفت کے ذرائع کی فراہمی پر بھی غور کیا جا رہا ہے، یوتھ کارڈ کے ذریعے نوجوان کھلاڑیوں کو بین الاقوامی معیار کی تربیت اور صحت کی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔

سندھ یوتھ کارڈ کا مسودہ قانونی جانچ پڑتال کے لیے پہلے محکمہ قانون کو بھیجا جائے گا، قانونی منظوری کے بعد مسودہ باقاعدہ منظوری کے لیے سندھ کابینہ میں پیش کیا جائے گا۔

اسے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

*

*
*