سندھ کے تعلیمی بجٹ کا 92 فیصد صرف تنخواہوں اور پنشن کی نذر، کراچی کے 233 اسکول غیر محفوظ قرار

کراچی (23 فروری 2026): سندھ کے تعلیمی بجٹ کا 92 فیصد صرف تنخواہوں اور پنشن پر خرچ ہو رہا ہے یہ انکشاف صوبائی وزیر نے کیا ہے۔

صوبائی وزیر تعلیم سید سردار شاہ نے سندھ اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ صوبائی تعلیمی بجٹ کا 92 فیصد حصہ تنخواہوں اور پنشن پر خرچ ہو رہا ہے۔

سردار شاہ نے کہا کہ صوبے میں شعبہ تعلیم اپنے اصل مقصد سیکھنے اور سکھانے کے نظام کے بجائے روزگار کا ذریعہ بنتا جا رہا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ 2021 میں ابتدائی طور پر 50 ہزار اساتذہ بھرتی کرنے کا منصوبہ بنایا گیا تھا، تاہم 95 ہزار افراد کو آفر لیٹرز جاری کیے جا چکے ہیں، جبکہ 31 ہزار امیدوار تاحال بھرتی کے منتظر ہیں۔

سندھ کے وزیر تعلیم نے یہ بھی نشاندہی کی کہ کراچی میں 233 پرائمری اور سیکنڈری اسکولوں کی عمارتیں غیر محفوظ ہیں، جن کی مرمت کے لیے 4 ہزار 156 ملین روپے درکار ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ سرکاری اسکولوں میں لائبریریوں اور سائنس لیبارٹریز کی کمی ہے، جبکہ نجی اسکولوں میں اساتذہ کی تنخواہیں کم ہیں۔ لڑکیوں کا انرولمنٹ تناسب 42 فیصد ہے۔

اسے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

*

*
*