
واشنگٹن (11 مارچ 2026): امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر ایران کے خلاف جاری جنگ کے خاتمے کا اشارہ دے دیا۔
امریکی نیوز ویب سائٹ ایگزیوس سے گفتگو میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ جنگ جلد ختم ہوگی کیونکہ ایران میں نشانہ بنانے کیلیے اب ہدف ہی نہیں، کچھ تھوڑا بہت باقی ہے جب چاہوں گا یہ ختم ہو جائے گا۔
امریکی صدر نے کہا کہ ایران کو جنگ میں توقع سے زیادہ نقصان پہنچا چکے ہیں، جنگ بہت اچھی جا رہی ہے ہم شیڈول سے آگے ہیں، 6 ماہ میں جتنا سوچ رکھا تھا اس سے زیادہ نقصان ایران کو اب تک پہنچا چکے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران کی دشمنی صرف اسرائیل اور امریکا تک محدود نہیں، تہران نے خلیجی ریاستوں کو بھی نشانہ بنایا ہے، یہ خطے میں خلیجی ریاستوں کا دشمن بن چکا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران نے 47 سال تک موت اور تباہی کی اب قیمت چکا رہا ہے، اس سے جنگ جب میں فیصلہ کروں گا تو ختم ہو جائے گی۔
یاد رہے کہ دو روز قبل ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ ایران جنگ بہت جلد ختم ہونے والی ہے، ہم اپنے مقررہ اہداف کے حصول میں 4 سے 5 ہفتوں کے ابتدائی اندازے سے بہت آگے نکل چکے ہیں۔
امریکی صدر نے ایک صحافی کی جانب سے جنگ ختم ہونے کے سوال پر جواب دیتے ہوئے کہا تھا کہ ایران کے خلاف جنگ اپنے منطقی انجام کے بہت قریب پہنچ چکی ہے، اس ہفتے تو نہیں لیکن جنگ بہت جلد ختم ہونے والی ہے۔
ان کا دعویٰ تھا کہ امریکا اپنے مقررہ اہداف کے حصول میں 4 سے 5 ہفتوں کے ابتدائی اندازے سے بہت آگے نکل چکا ہے اور اب ایران کے پاس نہ تو مؤثر بحریہ بچی ہے، نہ فضائیہ اور نہ ہی مواصلاتی نظام۔
انہوں نے ایرانی قیادت کے حوالے سے انتہائی سخت بیان دیتے ہوئے کہا تھا کہ ایرانی لیڈرشپ کے دو درجے مکمل طور پر ختم کیے جا چکے ہیں اور یہ نقصان اس سے بھی زیادہ ہو سکتا ہے۔
