افغانستان میں کارروائی مصدقہ اطلاعات پر کی گئی، افغان طالبان کے بیانات گمراہ کن ہیں: ترجمان دفترِ خارجہ

دفترِ خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ افغانستان میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر کارروائی مصدقہ اطلاعات کی بنیاد پر کی گئی۔ افغان عوام کے ساتھ تعلقات کو نقصان نہیں پہنچانا چاہتے، افغان سرزمین پر دہشت گردوں کو میسر آزادی کا خاتمہ چاہتے ہیں۔

جمعرات کے روز پریس برینفگ کے دوران ترجمان دفترِ خارجہ طاہر اندرابی نے کہا کہ افغان طالبان کے دھمکی آمیز بیانات پر نظر ہے، ہم افغانستان سے ابھرنے والے خطرات سے واقف ہیں اور پاکستانی ادارے ملکی سلامتی کے لیے تیار ہیں۔

انہوں نے افغان طالبان کی جانب سے سامنے آنے والے بیانات کو گمراہ کُن قرار دیتے ہوئے کہا کہ افغانستان دیگر ممالک کے خلاف دہشت گردوں کے ہاتھوں اپنی سرزمین کے استعمال کو روکے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنے دفاع کے حق کے تحت افغانستان میں موجود دہشت گردوں کے خلاف کاروائیاں کرے گا۔

ہفتہ وار بریفنگ میں ترجمان دفترِ خارجہ طاہر حسین اندرابی نے بتایا کہ وزیرِاعظم نے 23 تا 24 فروری امیرِ قطر کی دعوت پر قطر کا دورہ کیا۔ امیرِ قطر نے پاکستان کے ساتھ اقتصادی شراکت داری کو اعلیٰ سطح تک لے جانے کی خواہش کا اظہار کیا۔ قطر کے وزیرِ دفاع اور وزیرِ مملکت نے بھی وزیراعظم سے ملاقات کی۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان امیرِ قطر کی جانب سے افغانستان کے معاملے پر کسی کردار کا خیرمقدم کرے گا۔

طاہر حسین اندرابی نے بتایا کہ او آئی سی کا ہنگامی وزارتی اجلاس 26 فروری کو جدہ میں منعقد ہو رہا ہے ، جس میں مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیل کے غیرقانونی فیصلوں پر غور کیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار سعودی عرب کے دورے پر ہیں، وہ جدہ میں او آئی سی ایگزیکٹیو کمیٹی اجلاس میں شرکت کر کے اس معاملے پر پاکستان کا مؤقف پیش کریں گے۔

ترجمان دفترِ خارجہ کا کہنا تھا کہ رواں ماہ سمجھوتہ ایکسپریس پر حملے کی 19ویں برسی ہے۔ اس حملے میں 70 سے زائد قیمتی جانیں ضائع ہوئیں۔ حملے میں ملوث سوامی آسیم آنند نے عوامی سطح پر اپنے جرم کا اعتراف کیا۔

انہوں نے کہا کہ بھارتی کرنل پروہت نے بھی اپنے جرم کا اعتراف کیا۔ بھارت ساںحہ سمجھوتہ ایکسپریس میں ملوث مجرموں کو انصاف کے کٹہرے میں نہیں لا سکا۔

ان کہنا تھا کہ بلوچستان میں دہشت گرد حملے کے بعد بھارتی وزارتِ خارجہ کا بیان پاکستان کے مؤقف کی تصدیق ہے، جسے سختی سے مسترد کرتے ہیں۔

اسے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

*

*
*