Qaumi Akhbar
Loading site
قومی اخبار
جمعرات 26 نومبر 2020
LZ_SITE_TITLE
 
New World of Online News

امریکا میں بڑے بحران کا اندیشہ

قومی نیوز جمعرات 12 نومبر 2020
امریکا میں بڑے بحران کا اندیشہ

نیویارک (قومی اخبارنیوز ) صدر ٹرمپ کے انتخابی شکست تسلیم کرنے سے انکار نے امریکی جمہوریت کیلئے بعض چیلنجز پیدا کرنے کے علاوہ امریکی سفارت کاروں اور فوجی قیادت کیلئے بھی مسائل پیدا کردیئے ہیں جبکہ ری پبلکن صدر کی جانب سے ڈیموکریٹ منتخب صدر جوزف بائیڈن کوانتقال اقتدار کی راہ میں بھی متعدد رکاوٹوں کے امکانات بھی ہیں جو امریکا میں ایک بڑے بحران کا باعث بھی ہوسکتاہے۔

گوکہ ڈیموکریٹ جوزف بائیڈن پنسلوانیا، ایری زونا اور جارجیا جیسی کئی سالوں سے روایتی ری پبلکن ریاستوں میں بھی ڈونالڈ ٹرمپ سے زیادہ ووٹ حاصل کرکے الیکٹورل ووٹ بھی حاصل کرکے منتخب صدر قرار پاچکے ہیں اور ان ریاستوں کے بعض ری پبلکن حکام بھی انتخابات میں کسی فراڈ کی تردید کررہے ہیں لیکن صدر ٹرمپ اور ان کی انتخابی مہم ان ریاستوں کی عدالتوں میں مختلف بے قاعدگیوں ا ور الزامات کے تحت چیلنج کررہے ہیں

اس بات کاامکان ہے کہ ریاستی عدالتوں کے بعد یہ معاملہ امریکی سپریم کورٹ تک جا پہنچے جہاں ری پبلکن پارٹی کے مقررہ کردہ ججوں کی اکثریت ہے۔ادھر امریکی سینٹ میں ری پبلکن پارٹی نے 50 نشستیں حاصل کرکے اپنی اکثریت قائم کرلی ہے ڈیموکریٹک پارٹی نے ابھی تک 48 نشستیں حاصل کی ہیں۔ فی الوقت ری پبلکن پارٹی پر صدر ٹرمپ کی گرفت اتنی مضبوط ہے کہ سینیٹ میں قائد ایوان ری پبلکن سینٹر مچ میکانل بھی جوزف بائیڈن کومنتخب صدر ماننے کی بجائے صدر ٹرمپ کی حمایت کررہے ہیں۔

جوزف بائیڈن کی انتخابی جیت کے باوجود صدر ٹرمپ کیلئے تین ایسے آپشنز ہیں جن کے ذریعے وہ جووزف بائیڈن کو انتقال اقتدار کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرسکتے ہیں۔ بعض ریاستوں میں ووٹوں کی دوبارہ گنتی، اہم ریاستوں میں ری پبلکن حکام اور انتخابی نگرانی کرنے والے اور نتائج کی تصدیق کرنے والے ریاستی سیکریٹری آف اسٹیٹ سے نتائج کی تصدیق کو رکوا دیا جائے جو کہ 8 دسمبر تک تصدیق کرنا لازمی ہے۔

وزیر دفاع برطرف،ٹرمپ احتجاج کیلئے تیار

538 الیکٹورل ووٹوں پر مشتمل الیکٹورل کالج کے ممبران نئے صدر کومنتخب کرنے کیلئے روایتی طور پر اپنا ووٹ استعمال کریں گے اور روایت کے مطابق جتنے ووٹ ٹرمپ نے حاصل کئے ہیںاتنے ووٹ ٹرمپ کو اور اسی طرح بائیڈن کوملیں گے۔ الیکٹورل کالج کیلئے ووٹروں کی تقرری میں ری پبلکن ریاستوں کے گورنر تاخیر، تعطل اور انکار کے ذریعے بحران یا رکاوٹ پیدا کرسکتے ہیں۔ مختلف ریاستی عدالتوں میں ری پبلکن نظریات اور پارٹی کے مقرر کردہ عدالتوں کے جج قانونی موشگافیوں کے ذریعے رکاوٹ کھڑی کرسکتے ہیں۔

گوکہ ان تینوں مذکورہ رکاوٹوں کے ذریعے ٹرمپ کی کامیابی کے امکانات کم بتائے جارہے ہیں لیکن اس کے باوجود امریکا میں 20 جنوری 2021ءسے قبل ایک غیر یقینی صورتحال پیدا ہورہی ہے۔امریکہ کے نومنتخب صدر جو بائیڈن نے کہا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ صدارتی انتخاب میں اپنی شکست تسلیم نہ کر کے دنیا میں امریکا کیلئے شرمندگی کا باعث بن رہے ہیں، قیادت کو منتقل ہونے سے کوئی نہیں روک سکتا ، 20جنوری کو سب واضح ہو جائے گا

صدارتی الیکشن جیتنے کے بعد بائیڈن سے برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن، فرانسیسی صدر ایمانویل میکخواں اور جرمن چانسلر اینگلا مرکل نے بات چیت کی ہے،ان رابطوں پر بائیڈن کا کہنا ہے کہ میں نے انہیں بتایا ہے کہ امریکہ واپس آ گیا ہے ہم گیم میں واپسی کر رہے ہیں ،مجھے نہیں لگتا کہ کوئی چیز ہماری رفتار کم کر سکے گی۔امریکی ریاست ڈیلاویئر کے شہر ولمنگٹن میں جہاں بائیڈن 20 جنوری کو انتقال اقتدارکیلئے تیاریوں اور منصوبہ بندی میں مصروف ہیں، صحافیوں سے بات کرتے ہوئے جو بائیڈن نے کہا کہ “یہ صدر کی میراث کے لیے اچھا نہیں ہو گا۔صدر ٹرمپ کی انتخابی مہم نے صدارتی انتخابات میں ووٹوں کی گنتی میں بے ضابطگیوں سے متعلق مختلف ریاستوں میں ایک درجن سے زائد مقدمات درج کرائے ہیں۔

(74 بار دیکھا گیا)

تبصرے