تین روزہ11ویں’بارہ کوڈا‘مشق کا شمالی بحیرہ عرب پر اختتام

پاکستان میری ٹائم سیکیورٹی ایجنسی کے زیراہتمام تین روزہ11ویں ’بارہ کوڈا‘مشق کا شمالی بحیرہ عرب پر اختتام ہوگیا۔

پاکستان میری ٹائم سیکیورٹی ایجنسی کے مطابق 11جنوری سے جاری بارہ کوڈا مشق کے تیسرے روز13جنوری کوسی فیزمرحلے کے دوران کھلے سمندر میں بحری جہاز سے فرضی پیدا کردہ  تیل کےرساؤ اوراس پرپھرفوری قابو پانے کی مشق کی گئی۔مشق کے دوران میری ٹائم سکیورٹی ایجنسی، پاکستان نیوی، کے پی ٹی اور دیگر اداروں کے بحری جہازوں اور ہیلی کاپٹر نے حصہ لیا۔ مشق کا مقصد سمندرمیں تیل کے رساؤ، پھیلاؤ کو روکنے، سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن سے انسانی جانوں کو بچانا اور سمندر میں آلودگی کو روکنا تھا۔

11ویں بارہ کوڈا مشق میں امریکا، فرانس، تنزانیہ سمیت 15 ممالک کے 26 مندوبین شریک تھے۔

سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن کے دوران سمندر میں پھنسے لوگوں کو ہیلی کاپٹر کی مدد سے نکالنے کی مشق کی گئی۔ اس موقع پر پاک بحریہ کے جہازوں اور ہیلی کاپٹر نے فلائی پاسٹ اور اسکم پاسٹ کیا۔

مشقوں کے اختتامی روزکے مہمان خصوصی مشیربرائے بحری امورمحمود مولوی تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ میری ٹائم سیکیورٹی ایجنسی فرنٹ لائن جہاد کررہی ہے۔ اس ادارے کو سپورٹ اشد ضروری ہے۔ میری ٹائم سیکیورٹی کے ہونے سے نیوی کے کام کم ہوجاتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ سندھ حکومت سمندرمیں گرنے والے آلودہ پانی اور کچرے کے سنگین مسئلے پرتوجہ دے۔ سمندر کی آلودگی سے مچھیروں کا روزگارخراب ہو رہا ہے۔

محمود مولوی نے کہا کہ ایران سے مشقوں میں شریک مندوبین سے بات ہوئی ہے۔ وہ بھی بارہ کوڈا مشق سمیت پاکستان کی جانب سے سمندری تحفظ کے پاکستانی اقدامات سےکافی خوش اور متاثر ہیں۔

میری ٹائم سکیورٹی ایجنسی کو سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن کے لیے جدید ہیلی کاپٹرفراہم کرنے کے متعلق پوچھےگئے سوال کے جواب میں محمود مولوی کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت پی ایم ایس کے جہازوں اور سامان کو اپ گریڈ کرنے سمیت انھیں ہرممکن سازوسامان مہیا کرے گی۔

ڈی جی پاکستان میری ٹائم سکیورٹی ایجنسی رئیرایڈمرل مرزا فواد امین بیگ کا کہنا تھا کہ بارہ کوڈا مشق کا مقصد میرین پلوشن کے خلاف کام کرنے کا تسلسل ہے۔

رئیرایڈمرل مرزا فواد امین بیگ نے کہا کہ پاکستان نیوی، سول اداروں اورآئل کمپنیزسب نے مل کر گندگی کو روکنے کے لیے پلان بنانا ہے۔

ڈی جی پاکستان میری ٹائم سکیورٹی ایجنسی نے کہا کہ ایم ایس اے کوپانی اورآبی حیات کو نقصان سے بچانا ہے۔ ہمیں 840 ناٹیکل مائیل سرچ اینڈ ریسکیو کی ذمہ داری دی گئی ہے۔

انھوں نے کہا کہ جب بھی کہیں ضرورت ہو ہم نیوی کے ہمراہ کام کرتے ہیں۔ مشکل میں پھنسے لوگوں کو بچاتے ہیں۔ ہمیں نئے چیلنجزکے لیےآلات کو بہترکرنا ہے۔ اس وقت بہت سے سازوسان کی ضرورت ہے۔

فواد امین بیگ کا کہنا تھا کہ اس وقت میری ٹائم سکیورٹی ایجنسی کے پاس آئل اسپل کے کسی بہت بڑے حادثے سے نمٹنے کی صلاحیت موجود نہیں ہے، اس صلاحیت کا حصول موجودہ دور کی اہم ضرورت ہے۔