صوفیہ مرزا کےبچوں کی واپسی کا معاملہ،ایف آئی اے سے پیش رفت رپورٹ طلب

صوفیہ مرزا کےبچوں کی واپسی کے معاملے پرسپریم کورٹ نے ایف آئی اے سے پیش رفت رپورٹ طلب کرلی۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ کے جسٹس مقبول باقر کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے ماڈل اداکارہ صوفیہ مرزا کے بچوں کے اغوا سے متعلق کیس کی سماعت کی۔

سپریم کورٹ نے ریمارکس میں کہا کہ وزارت داخلہ بچوں کی واپسی کی دستاویز کی عربی ترجمہ آج ہی مکمل کرے اوردستاویز تصدیق کیلئے کل یو اے ای ایمبیسی بھجوائے۔

ڈی جی ایف آئی اے نے کہا کہ ملزم سابق شوہرعمر فاروق کے حوالگی کو ریڈ وارنٹ انٹرپول میں زیر التوا ہے۔ ریڈ وارنٹ و دیگر معاملات کو فالو کرنے کیلئے ٹیم تشکیل دیدی ہے۔

 ڈی جی ایف آئی اے نے عدالت کو بتایا کہ سابق شوہرعمر فاروق ریڈ وارنٹ کا دفاع کررہا ہے۔

جسٹس مظاہرنقوی نے استفسار کیا کہ ایف آئی اے نے والدہ صوفیہ مرزا کے بچوں کو واپس لانے کیلئے کیا کیا؟ بچوں کو والدہ اور والدہ کو بھی بچوں کی ضرورت ہے۔

جسٹس مظاہرعلی نے ریمارکس میں مذید کہا کہ پاکستان سے بچے اغوا کرکے یو اے ای لے جائے گئے۔ حکام یو اے ای فرار ہوئے ملزمان کو واپس لے آتے ہیں۔ یہاں سے بچے اغوا ہوئے،ایف آئی اے واپس نہیں لا پا رہی۔

ادارکارہ صوفیہ مرزا نے کہا کہ میرے دس سال گزرگئے۔ بچے واپس نہیں آئے۔

جسٹس مظاہرنقوی نے کہا کہ دستاویز کا عربی ترجمہ کرنے میں کتنا وقت لگتا ہے؟ ایف آئی اے کو بچے واپس لانے کی دستاویز تیارکرنے میں 12 سال لگ گئے؟

سپریم کورٹ نے ایف آئی اے سے ایک ہفتے میں پیش رفت رپورٹ طلب کرتے ہوئے سماعت دو ہفتوں تک ملتوی کردی۔