چاند کی سطح پر سائنسدانوں کو کیا ملا؟ جان کر آپ بھی حیران رہ جائیں گے

بیجنگ: کائنات کی کھوج میں سرگرداں سائنسدان اکثرایسے رازوں سے پردہ اٹھاتے ہیں کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ ایسا ہی ایک انکشاف چین کی خلائی گاڑی’چانگ ای 5 یان لینڈر‘ نے چاند کی سطح پر پانی کے بارے میں کیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق چینی سائنسدان خلائی گاڑی کے ذریعے چاند کی سطح کا مطالعہ کر رہے تھے جہاں انہیں پانی کے شواہد ملے ہیں واضح رہے کہ اس حیران کن انکشاف کے بعد معلومات کئی راہیں کھلی ہیں۔

سائنسی جریدے سائنس ایڈوانسز میں شائع ہونے والی اس تحقیق میں یہ بتایا گیا ہے کہ چینی خلائی جہاز کی لینڈنگ جس جگہ ہوئی وہاں کی مٹی میں پانی کی موجودگی کا پتہ چلا ہے تاہم پانی یہ مقدار 120 گرام فی ٹن سے بھی کم ہے یہی وجہ ہے وہ زمین کی نسبت بہت زیادہ خشک ہے۔

تحقیقی رپورٹ کے مطابق پانی کے شواہد کے بارے میں اس سے قبل صرف ٹیسٹ کے ذریعے ہی امکان کو ظاہر کیا جارہا تھا تاہم یہ پہلا موقع ہے کسی خلائی گاڑی نے یہ شواہد حاصل کئے ہیں۔

چین کے اس خلائی جہاز نے چاند کی چٹانوں اور مٹی میں پانی کی علامات کا پتہ لگایا ہے۔ چین کی اس خلائی گاڑی پر ایک خصوصی آلہ نصب کیا گیا ہے اسی کی مدد سے چٹانوں اور سطح کا جائزہ لیا گیا جس میں پہلی بار چاند کی سطح پر پانی کی موجودگی کا انکشاف ہوا۔

محققین کا یہ بھی کہنا ہے کہ پانی کی مقدار کا اندازہ اس لئے لگانا آسان ہے کیو نکہ پانی کے مالیکیول تقریباً تین مائیکرومیٹر کی فریکوینسی پر جذب ہونے کے صلاحیت رکھتے ہیں۔

چینی سائنسدانوں کا اس ضمن میں مزید یہ بھی کہنا ہے کہ شمسی ہوا چاند کی مٹی میں سب سے زیادہ اثر انداز ہوتی ہے، کیو نکہ اس میں ہائیڈروجن ہوتی ہے اور یہی وہ اہم عنصر جس سے پانی بنتا ہے۔