جوکووچ کی آسٹریلین اوپن میں شرکت اب بھی مشکوک

سربین اسٹار اور ٹینس رینکنگ میں عالمی نمبر ایک نوواک جوکووچ امیگریشن کے خلاف مقدمہ تو جیت گئے ہیں مگر اب بھی ان کی آسٹریلین اوپن میں شرکت مشکوک ہے۔

سرب ٹینس کھلاڑی کی اس قانونی جیت کو بالخصوص ویکسین مخالف حلقوں کی طرف سے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ پیر دس جنوری کے دن ایک آسٹریلوی عدالت نے کہا کہ کینبرا حکومت کی طرف سے جوکووچ کا ویزہ منسوخ کیا جانا ناقابل جواز ہے۔

جوکووچ آسٹریلین اوپن میں شرکت کے لیے جمعرات کو میلبورن پہنچے تھے انہوں نے کووڈ 19 کے حوالے سے ضواط کے تحت مناسب سفری دستاویزات کی مبینہ عدم موجودگی کی وجہ سے انہیں گرفتار کر کے ایک بدنام زمانہ امیگریشن حراستی مرکز میں منتقل کر دیا گیا۔

جوکووچ نے ملک بدر کیے جانے کے آسٹریلوی فیصلے کو عدالت میں چیلنج کیا اور وہ یہ کیس جیتنے میں کامیاب  ہو گئے۔ آسٹریلین اوپن سترہ جنوری سے شروع ہو گا اور جوکووچ اگر اس میں شرکت اور ٹائٹل دوبارہ اپنے نام کرنے میں کامیاب ہوئے تو وہ مردوں میں سب سے زیادہ کامیاب ٹینس کھلاڑی بننے کا اعزاز حاصل کر لیں گے۔

پیر کے دن سرکٹ کورٹ کے جج انٹونی کیلے نے جوکووچ کے حق میں فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ تیس منٹ کے اندر اندر جوکووچ کو حراستی مرکز سے آزاد کر دیا جائے اور ان کی سفری دستاویزات انہیں واپس کر دی جائیں۔

تاہم یہ معاملہ یہیں ختم نہیں ہوا۔ آسٹریلوی امیگریشن اتھارٹی کے پاس یہ اختیارات ہیں کہ وہ کسی کا بھی ویزہ کسی بھی وجہ کے تحت مسترد کر سکتی ہے۔

آسٹریلین امیگریشن اتھارٹی نے عدالت کو بھی بتا دیا ہے کہ وہ خصوصی اختیارت کے تحت جوکووچ کو ملک بدر کر سکتی ہے۔ تاہم عدالت نے امیگریشن اتھارٹی کو خبردار کیا ہے کہ اس صورت میں وہ بھی کارروائی کر سکتی ہے۔

جوکووچ کے وکلاء  جوکووچ نے ویزے کے لیے درخواست دی تھی تو آسٹریلوی وزارت داخلہ نے ان کے مؤکل کو گزشتہ ماہ ہی کہہ دیا تھا کہ انہیں ملک میں داخلے کی تمام تر ضروریات پورا کرنا ہوں گی۔

 تاہم آسٹریلوی حکومت کا کہنا ہے کہ اس کا مطلب یہ ہر گز نہیں اس صورت میں کسی کو بھی ملک میں داخلے کی ضمانت مل جاتی ہے۔

واضح رہے کہ نوواک جوکووچ کووڈ کی ویکیسن کے خلاف ہیں۔ اپریل 2020 میں انہوں نے کھلے عام اس امر کا اظہار کرتے ہوئے ویکیسن لگوانے سے انکار کر دیا تھا۔

جوکووچ دنیائے ٹینس کے ایک بہترین کھلاڑی تو ہی ہیں لیکن اپنی فٹنس میں بھی وہ کوئی ثانی نہیں رکھتے۔

تاہم ناقدین کا کہنا ہے اگر اب انہیں موقع مل بھی جاتا ہے کہ وہ آسٹریلین اوپن میں شرکت کریں تو انہیں اپنی فارم میں بھرپور طریقے میں آنے میں مشکل ہو سکتی ہے کیونکہ یہ صرف جسمانی ہی نہیں بلکہ اب نفسیاتی معاملہ بھی بن چکا ہے۔

جوکووچ بیس گرینڈ سلام ٹائٹل اپنے نام کر چکے ہیں اگر اس مرتبہ بھی وہ کامیاب ہو گئے تو وہ یہ معتبر اعزاز سب سے زیادہ مرتبہ اپنے نام کرنے کے قابل ہو جائیں گے۔